menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mushtarka Chat Mat Cheenain

24 0
15.08.2026

نیویارک میں دو دن ٹھہر کر پہلی مرتبہ ہم بحثیت خاندان اوماہا نبراسکا پہنچے۔ اوماہا خاصا سرد لیکن انتہائی خوبصورت شہر تھا۔ انتہائی محفوظ اور خاندانی قدریں رکھنے والا ایک شاندار شہر۔ اُس وقت تک ہم ہوٹل میں کمرہ لے چُکے تھے اور دائیں بائیں رہنے کی جگہیں دیکھ رہے تھے۔ زندگی صحیح معنوں میں ایک پیغام دے رہی تھی کہ آج تک جو سیکھا وہ تو والدین سے سیکھا تھا لیکن اب یہ معلوم کرنے کا وقت آیا کہ کیا اوائل زندگی میں سیکھے گئے پاکستانی اصول و ضابطے، ایک امریکی طرز زندگی کو کسی ڈھب پر گزارنے کے لائق ہیں۔

نوجوانی میں سب ہی والدین تربیت کرتے ہیں لیکن جب آپ خود گھر کے سربراہ بنتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کیا وہی اخلاقیات استعمال کرنے میں آسان ہیں؟

یہ ہمارا فیصلہ کرنے کا موقع تھا کہ آنے والی زندگی کس ڈھب پر گزرے گی۔ مذھبی احکامات، ذاتی اخلاقیات، خاندانی طرز زندگی، امریکی اطوار اور بعض لوگوں کیلئے اس سے بھی بڑھ کر ایک نوجوان امریکی ڈاکٹر کی انتہائی مصروف زندگی کے مختلف اور خوش رنگ پھولوں کو زندگی کے مہکتے ہوئے ایک گل دستے میں سمیٹنے اور سجانے کے دن آن پہنچے تھے۔

پہلا اہم ان کہا فیصلہ یہ تھا کہ خاندان کو ہمیشہ اولیت دی جائے اور کم و بیش پچیس تیس سال کی پیشہ ورانہ زندگی میں، میں نے ایک دن بھی moonlighting یعنی اپنی نوکری اور تنخواہ سے باہر کام کرنے کا نہیں سوچا۔ بحثیت ایک امریکی ڈاکٹر کے آپ ایک انتہائی مناسب رقم کماتے ہیں لیکن امریکہ میں نہ تو کمانے کی کوئی حد ہے اور نہ ہی بے حد و حساب خرچ کرنے کی۔ چند ایک مرتبہ ایسے مواقع ضرور آئے جب ایک بہت خوشحال اور امیر و کبیر لیکن انتہائی مصروف ڈاکٹر کی زندگی گزارنے کے ڈھب پر زندگی کا آغاز کیا جاسکتا تھا لیکن ہم دونوں نے ایک ان کہے معاہدے پر ان دیکھی روشنائی سے ذھنی دستخط کئیے اور یہی فیصلہ ہوا کہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر مقابلتاََ سادہ اور لالچ سے پاک زندگی گزاریں گے۔ ہاں خاندان مذھب اور اولاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

زندگی گزرتی رہی اور سالوں بعد ایک ایسا موقع آیا جس نے ہمارے سادہ طرز زندگی پر ایک روپہلی........

© Daily Urdu (Blogs)