menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Lahore Aur Na Karda Neki Ki Qaza

27 0
26.07.2026

لاہور اور ناکردہ نیکی کی قضاء

زندگی کی شاہراہ پر چلتے ہوئے کبھی آپ کسی راہ گزر کا ہاتھ تھام لیتے ہیں اور کبھی کوئی کم نصیب آپ کے کاندھے پر سر رکھ دیتا ہے۔ کبھی آپ کسی کے دُکھ سُکھ کا سامان اٹھا لیتے ہیں اور کہیں کوئی آپ کا راستہ روشن کردیتا ہے۔ زندگی کا رستہ بس کچھ ایسا ہی طے ہوتا ہے۔

1991/1992 کے مارچ کی ایک سرد اور تاریک رات تھی۔ لاہور میں راتیں سرد تو ہوتی تھیں لیکن ابھی دھوئیں کا عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔ بارشیں بھی ہوتی تھیں اور شفاف فضا میں آسمان پر ستارے بھی دمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ رات اپنا دامن پھیلا دیتی اور شہر کی روشنیاں اندھیرے سے نبردآزما رہتیں۔

ابھی لاہور اتنا دور تک نہیں پھیلا تھا کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک جاتے ہوئے پورا دن ہی گُزر جائے یا پھر رشتے رکھنے یا جوڑنے میں فاصلہ مانع آنے لگے۔ پاپا مرحوم کی خواہش ہوتی تھی کہ میں جب بھی ممکن ہو تو اُن کے ساتھ جا سکوں۔ غالباََ صبح ناشتے کیلئے ڈبل روٹی کی ضرورت تھی اور اس زمانے میں مزنگ چونگی کے پاس شیزان بیکری کی بہت بڑی دکان تھی۔ پاپا اور میں وہاں تک آئے جہاں انہوں نے کار پارک کرکے مجھے کار میں ہی بیٹھے رہنے دیا اور خود خریداری کرنے اندر چلے گئے۔

مزنگ چونگی کی روشنیاں بہت بھلی لگ رہی تھیں اور نوجوانی کے موسم گُل میں تو ہر رنگ اور روشنی ہی بھلی لگتی تھی۔ خواہ رنگ کسی پیراہن کا ہو اور خوشبو زُلف کی ہو یا بارش کے بعد کی مٹی سے ہی کیوں نہ پھوٹ رہی ہو۔ بہار کی خوشگوار بارش ابھی ختم ہی ہوئی تھی اور فضا بہت شفاف تھی۔ مُڑ کر دیکھا تو سڑک کی دوسری جانب ایک بھکاری اپنے آپ کو سردی سے بچانے کے لئیے اپنے ناکافی لباس سے اپنے آپ کو سمیٹ رہا تھا۔ یہ بالکل واضح تھا کہ اس کا لباس اس کی سردی ختم کرنے میں اس کی مدد نہیں کر سکتا........

© Daily Urdu (Blogs)