menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dua Ke Hisar Mein Hoon

28 0
13.08.2026

پاپا مرحوم جب دوسری مرتبہ امریکہ پہنچے تو انہوں نے نیاگرا فالز دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اگر آپ وہاں جائیں تو معلوم ہوگا کہ لکڑی کی چند ایک سیڑھیاں بنائی گئی ہیں جو جو ایک لمبا راستہ طے کرکے نیاگرا فالز کے گرتے ہوئے پانیوں کی بوچھاڑوں تک پہنچاتی ہیں۔ نیاگرا آبشار دو میٹھے پانی کی عظیم جھیلوں اری اور اونٹریو کے پانیوں سے بنتی ہیں۔ گرتا ہوا پانی انتہائی سرد اور پگھلتے ہوئے تودہ یخ یعنی گِلاسِیَر (Glacier) کی برفوں سے آتا ہے۔ گرتے ہوئے پانی کے ساتھ ہی وہ مقام خاص ہے جہاں سے نیاگرا کے پانیوں سے ایک متواتر دھنک، دائمی طور پر موجود رہتی ہے۔ بچپن میں پڑھا کرتے تھے کہ قوس قزح کے دونوں سرے طلائی ٹُکڑوں سے بھری دیگ میں پیوستہ ہوتے ہیں اور اگر کوئی مہم جُو اس خزانے تک پہنچ جائے تو مالی آسودگی میں کوئی شبہ نہ رہے۔ جب واقعی اس دائمی دھنک کی کمان تک پہنچے تو معلوم ہوا کہ قوس قزح کے دونوں سرے نہ تو کسی دیگ میں دبے ہوئے ہیں اور نہ ہی سونے کے ٹکڑوں کا ہی کوئی نام و نشان ہے۔

دمکتی ہوئی دھنک کے سات رنگ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ ہر دلنشین چیز مکمل دسترس میں آ جائے اور نہ ہی اس سے وابستہ سب خواب طلائی تعبیر لے کر آتے ہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ اچھائی اور نیکی کے وہ رنگ جو آپ کسی کی زندگی میں بھرتے ہیں وہ ضرور روپہلی اور نقرئی تعبیر لے کر آتے ہیں۔ دل نشین، مہک دیتے ہوئے اور خوشیوں سے معمور۔

سورۂ کہف کی آیت نمبر 82 ایک بہت حیران کُن آیت ہے۔ اس میں سیدنا موسیٰ اور سیدنا خضر کے سفر کا ذکر ہے اور جس وقت سیدنا خضر ایک ایسی دیوار کو جس کے نیچے دفینہ تھا اور جو گرا ہی چاہتی تھی، اس کی مرمت فرماتے ہیں اور جب اُن سے وجہ دریافت کی جاتی ہے تو جواب میں یہ بھی کہتے ہیں "وَ كَانَ اَبُوُهُمَا صَالِحًا"، جس کے کم و بیش معنی ہیں کہ "اور اس کا باپ ایک نیک آدمی تھا"۔ قران مجید کی مشہور ترین تفسیر، تفسیر ابن کثیر میں علامہ ابن........

© Daily Urdu (Blogs)