Film Terminator, Mustaqbil Ki Manzar Kashi Thi, Jise Aaj Hum Dekh Rahe Hain
فلم ٹرمینیٹر، مستقبل کی منظر کشی تھی، جسے آج ہم دیکھ رہے ہیں
1984 میں ریلیز ہونے والی جیمز کیمرون کی شاہکار فلم دی ترمینیٹر (The Terminator) اور اس کے ابتدائی تینوں حصے اگر آپ نے اس وقت بڑے پردے پر دیکھے تھے جب یہ سنیما گھروں میں دھوم مچا رہے تھے، تو آج کے اس جدید اور ڈیجیٹل دور میں بیٹھ کر انہیں ایک مرتبہ پھر دیکھنا ایک انتہائی خوفناک اور حقیقت پسندانہ تجربہ محسوس ہوتا ہے۔
اس فلم کی کہانی کچھ یوں ہے کہ مستقبل میں اسکائی نیٹ (Skynet) نامی ایک عسکری مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) خود آگاہ ہو کر دنیا کی تمام باگ ڈور سنبھال لیتی ہے اور انسانیت کے خلاف ایٹمی جنگ مسلط کر دیتی ہے۔
جب انسان جان کونر (John Connor) کی قیادت میں اس کے خلاف آخری جنگ لڑتے ہیں، تو شکست کے قریب پہنچ کر یہ ظالم مشینیں وقت کے دھارے کو چیرتے ہوئے ماضی میں اپنے قاتل روبوٹس یعنی ترمینیٹرز (Terminators) روانہ کرتی ہیں تاکہ بغاوت کے اس بیج کو ہی مٹا دیا جائے۔
کہانی کا اصل موڑ یہ ہے کہ حکومت سارہ کونر (Sarah Connor) کو گرفتار کرکے قید اس لیے کر دیتی ہے کیونکہ وہ ان تمام خفیہ ڈیٹا سینٹرز (Data Centers) اور سرورز (Servers) کو تباہ کرنا چاہ رہی ہوتی ہے جو دراصل اس مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور اس کے تمام نظام کو کنٹرول کر رہے ہوتے ہیں۔
فلم کے دوسرے اور تیسرے حصے میں اس کہانی کا........
