Jangen Hoti Rahen Gi
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بے مثال تگ و دوکے بعد دنیا کی سپر پاور امریکا اور ایران میں جنگ بظاہر ختم ہوچکی لیکن دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات بدستور جاری ہیں اور یہ مستقبل میں بھی جاری رہیں کے کیونکہ دونوں ممالک اپنے اپنے عوام کی خوشی اور دلاسے کے لئے اپنے آپ کو "فاتح" قرار دے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی حکومتوں کو عوامی دبائو کا سامنا ہے جس کے اثرات کا سامنا انہیں جنگ کے خاتمے کے بعد کرنا پڑے گا۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ عارضی قیام امن کے باوجود یہ جنگ کسی نہ کسی صورت جاری رہے گی کہ اسی میں سب کا مفاد ہے۔
بلاشبہ عالمی سیاست کے افق پر بعض لمحے ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے کا رخ متعین کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ اس وقت اسی نوع کے ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں جنگ اور امن، تصادم اور مفاہمت، طاقت اور تدبر۔ سب ایک ہی منظرنامے میں آمنے سامنے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک جانب دہائیوں پر محیط امریکا، ایران کشیدگی اپنی تمام تر پیچیدگیوں کے ساتھ موجود ہے تو دوسری جانب حالات ایک نئی امید، ایک نئے سیاسی توازن اور ایک ممکنہ علاقائی استحکام کا عندیہ دے رہے ہیں۔
یہ محض دو ریاستوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کا سوال نہیں بلکہ پورے خطے کے مستقبل، عالمی اقتصادی استحکام اور بین الاقوامی امن کے امکانات سے جڑا ایک ہمہ گیر معاملہ ہے۔ ایسے وقت میں جب لبنان کی سرزمین پر بارود کی بو ابھی پوری طرح تحلیل نہیں ہوئی، غزہ مسلسل خون آشام جارحیت کی زد میں ہے اور آبنائے ہرمز جیسی حساس گزرگاہ عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز غیر معمولی معنویت اختیار........
