Soobay Banane Se Kya Nizam Badal Jaye Ga?
صوبے بنانے سے کیا نظام بدل جائے گا؟
پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی تقسیم کی بحث کوئی نئی بات نہیں، تاہم حالیہ دنوں میں اس بحث نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے صوبوں اور انتظامی تقسیم کے حوالے سے سامنے آنے والے بیان کے بعد ایک عرصے سے خاموش پڑا ہوا یہ موضوع دوبارہ سیاسی، انتظامی اور عوامی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔
اس کے بعد ٹاک شوز ہوئے، مختلف پروگراموں میں بحث ہوئی، جامعات اور تھنک ٹینکس میں آرا سامنے آئیں، مختلف تنظیموں اور این جی اوز نے اپنے مؤقف پیش کیے اور میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر نئے صوبوں کے قیام کو ایک اہم قومی مسئلے کے طور پر زیرِ بحث لایا جانے لگا۔
کہیں یہ سوال اٹھایا گیا کہ نئے صوبے کیوں ضروری ہیں، کہیں انہیں انتظامی مسائل کا حل قرار دیا گیا اور کہیں یہ تاثر سامنے آیا کہ اربابِ اختیار بھی مستقبل میں ملک کے انتظامی نقشے میں تبدیلی کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ محض عوامی اور سیاسی سطح پر اٹھنے والی بحث ہے یا اس کے پیچھے ریاستی سطح پر بھی کوئی سوچ کارفرما ہے؟
اگر واقعی ریاستی سطح پر انتظامی نقشے میں تبدیلی کے بارے میں غور ہو رہا ہے تو اس معاملے پر کھلی، سنجیدہ اور غیر جانب دار قومی بحث ہونی چاہیے، کیونکہ ملک کے انتظامی نقشے میں تبدیلی کوئی معمولی فیصلہ نہیں۔ اس کے سیاسی، آئینی، معاشی، انتظامی اور معاشرتی اثرات ہوتے ہیں۔
لیکن اس پوری بحث کا سب سے بنیادی سوال شاید یہ ہے: کیا نئے صوبے بنا دینے سے نظام بدل جائے گا؟ کیا صوبہ بدلتے ہی ڈپٹی کمشنر کا کردار بدل جائے گا؟ کیا اسسٹنٹ کمشنر کا رویہ عوام کے لیے تبدیل ہو جائے گا؟ کیا پولیس سیاسی مداخلت سے آزاد ہو جائے گی؟ کیا سرکاری اسکولوں کا معیار اچانک بہتر ہو جائے گا؟ کیا اسپتالوں میں ڈاکٹر، ادویات اور بنیادی سہولتیں خود بخود پیدا ہو جائیں گی؟
اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ نظام کی کارکردگی ہے۔
صوبہ نیا ہو سکتا ہے، لیکن اگر افسر شاہی وہی ہو، قانون کے نفاذ کا طریقہ وہی ہو، اداروں میں سیاسی مداخلت برقرار ہو، احتساب کا نظام کمزور ہو اور حکمرانی کا کلچر تبدیل نہ ہو تو صرف انتظامی حدود تبدیل کرنے سے عام آدمی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی کیسے آئے گی؟
نقشے پر نئی لکیریں کھینچنا نسبتاً آسان کام ہے، لیکن نظام کو تبدیل کرنا........
