menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khush Haal Dehat, Be Ikhtiar Baldiyat

25 0
21.10.2026

خوشحال دیہات، بے اختیار بلدیات

دیہات کو خوشحال، صاف ستھرا اور بنیادی سہولتوں سے آراستہ دیکھنا ہر پاکستانی کی خواہش ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے 120 دیہات کو ماڈل ویلجز بنانے اور بعدازاں اس پروگرام کو مزید علاقوں تک وسعت دینے کا منصوبہ بلاشبہ ایک اچھا قدم ہے۔ پکی گلیاں، سیوریج، نکاسیٔ آب اور صفائی جیسی سہولتیں ان علاقوں کے عوام کا بنیادی حق ہیں، کسی حکومت کا احسان نہیں۔ لیکن ہر اچھے منصوبے کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی ضروری ہے۔ یہ کام کون کرے گا، کس اختیار کے تحت کرے گا اور اس کے لیے جواب دہ کون ہوگا؟

یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ حکومت نے "خوشحال دیہات ایکٹ 2026" کے تحت ویلیج کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کمیٹیوں میں سرکاری اور عوامی نمائندے شامل ہوں گے، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر سربراہ اور ڈپٹی کمشنر نگرانی کریں گے۔ ارکانِ پنجاب اسمبلی اور پارٹی ٹکٹ ہولڈرز کو بھی اپنے علاقوں کے ترقیاتی منصوبوں کا نگران بنانے کی بات سامنے آئی ہے۔

یہاں ذرا رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر گلیاں، نالیاں، سیوریج، صفائی اور مقامی ترقی بلدیاتی اداروں کے بنیادی کام ہیں تو پھر بلدیاتی ادارے کہاں ہیں؟ عوام اپنے نمائندوں کو ووٹ کیوں دیتے ہیں؟ اس لیے کہ وہ ان کے مقامی مسائل حل کریں۔ اگر انہی کاموں کے لیے متوازی کمیٹیاں قائم کردی جائیں اور انتظامی افسران یا سیاسی نمائندوں کو ان کا نگران بنا دیا جائے تو پھر عوام کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کا عملی کردار کیا رہ جاتا ہے؟ یہ........

© Daily Urdu (Blogs)