Ramzan Ul Mubarak: Islah e Batin Se Tameer e Muashra Tak
رمضان المبارک: اصلاحِ باطن سے تعمیرِ معاشرہ تک
رمضان المبارک کی آمد محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں بلکہ دلوں کی دنیا میں ایک انقلاب کی دستک ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو انسان کو اس کے اصل مقام، یعنی بندگیِ رب کی یاد دلاتا ہے۔ سال بھر کی غفلتوں کے بعد جب رمضان کی پہلی سحر طلوع ہوتی ہے تو گویا رحمتِ الٰہی اپنے دروازے کھول دیتی ہے اور ایک صدا گونجتی ہے کہ اے خیر کے طلبگار! آگے بڑھ اور اے شر کے ارادہ رکھنے والے! رک جا۔
رمضان دراصل روح کی بالیدگی اور نفس کی تربیت کا مہینہ ہے۔ روزہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ خواہشات کا غلام نہیں بلکہ اپنے ارادے کا مالک ہے۔ بھوک اور پیاس کی شدت میں بھی جب بندہ اللہ کے حکم کی پاسداری کرتا ہے تو وہ اپنے اندر ضبط، صبر اور اطاعت کی وہ قوت پیدا کرتا ہے جو سال کے باقی مہینوں میں بھی اس کی راہنمائی کرتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے قرآن نے "تقویٰ" کا نام دیا۔ تقویٰ دل کی وہ بیداری ہے جو انسان کو تنہائی میں بھی گناہ سے روکے اور مجمع میں بھی اخلاص پر قائم رکھے۔
رمضان کا سب سے روشن پہلو قرآنِ حکیم سے........
