Aik Kachori, 2 Samosay, Inn Mardon Ka Kya Bharosa
ایک کچوری، دو سموسے، اِن مردوں کا کیا بھروسا
ایک کچوری دو سموسہ ان مردوں کا کیا بھروسہ
بظاہر یہ ایک طنزیہ جملہ ہے، مگر نئی دہلی میں جنسی تشدد کے خلاف طلبہ کے ایک احتجاج کے دوران لگنے والا یہ نعرہ اپنے اندر ایک بڑا سماجی سوال لیے ہوئے تھا۔ سوال یہ تھا کہ عورت کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا صرف اس کی نقل و حرکت محدود کی جائے، یا معاشرے میں مردوں کے رویوں، تربیت، نیت اور ذمہ داری پر بھی بات کی جائے؟
یہ سوال اپنی جگہ بالکل اہم ہے۔ لیکن اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے ہمیں ایک اور حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے: مرد صرف ایک جنس نہیں، ایک انسان بھی ہے۔
ہمارے معاشرے میں مرد کی سب سے بڑی خوبی اکثر یہ سمجھی جاتی ہے کہ وہ اپنی تکلیف چھپا لے۔ وہ روئے نہیں، شکایت نہ کرے، حالات سے نہ گھبرائے، گھر کی ذمہ داریوں سے پیچھے نہ ہٹے اور اپنی ناکامی کا بوجھ بھی خاموشی سے اٹھاتا رہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ ہم نے جس خاموشی کو مردانگی کا نام دیا، وہی خاموشی بہت سے مردوں کے اندر ایک ایسی تنہائی پیدا کر رہی ہے جسے کوئی دیکھنا نہیں چاہتا۔
مرد کو مضبوط بنانے کی کوشش میں ہم نے اس کے جذبات کو مشکوک بنا دیا ہے۔
اسے بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ "مرد بنو، روؤ نہیں۔ " جوان ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اب گھر کی ذمہ داری تمہاری ہے۔ روزگار کی دوڑ شروع ہوتی ہے۔ شادی کے بعد گھر، بچوں، والدین، علاج، تعلیم، کرایے، بلوں اور مستقبل کی فکر اس کے کندھوں پر آتی جاتی ہے۔
مگر اس پورے سفر میں بہت کم لوگ اس سے پوچھتے ہیں: "تم خود کیسے ہو؟"
وہ گھر میں موجود ہوتا ہے، کام کر رہا ہوتا ہے، بچوں سے ہنس کر بات کر رہا ہوتا ہے، دوستوں کے سامنے معمول کے مطابق بیٹھا ہوتا ہے، مگر اس کے اندر کیا چل رہا ہے، یہ جاننے کی کوشش کم ہی کی جاتی ہے۔
کیونکہ ہمارے ہاں مرد کے بارے میں ایک عجیب تصور قائم ہے: اسے مسئلے کا حل ہونا چاہیے، مسئلے کا حصہ نہیں۔
اس کی اپنی پریشانی ہو سکتی ہے، مگر اسے پریشان نظر نہیں آنا چاہیے۔ وہ ناکام ہو سکتا ہے، مگر........
