Main Pal Do Pal Ka Shayar Hoon
میں پل دو پل کا شاعر ہوں
مکیش بائیس جولائی انیس سو تئیس کو دہلی، بھارت میں پیدا ہوئے اور محض ترپن برس کی عمر میں ستائیس اگست انیس سو چھہتر کو مشی گن، امریکہ میں انتقال کر گئے۔ آج 27 اگست کو مکیش کی پچاسویں برسی ہے۔
مکیش کی آواز ان آوازوں میں شامل ہے جو صرف کانوں تک ہی نہیں بلکہ دل و روح میں اتر جاتی ہیں بشرطیکہ سننے والے کان نرم و گداز و حساس ہوں۔ مکیش کو دنیا سے گئے آج پچاس برس گزر گئے ہیں۔ ان پچاس سالوں میں کئی نسلیں بدلیں، آلات موسیقی اور انداز بدل گئے لیکن مکیش کی آواز آج بھی اپنی جگہ قائم ہے اور کروڑوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
مکیش کی گائیکی کی سب سے بڑی خوب ان کی سادگی تھی۔ وہ گاتے تھے تو محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی بڑا فنکار نہیں بلکہ ہمارے ہی درمیان بیٹھا ہوا کوئی عام شخص اپنے دل کی بات کہہ رہا ہو۔ مکیش کی آواز بناوٹ سے پاک ہے اور ایک عجیب سی سچائی لیے ہوتی ہے۔ ان کی آواز میں خوشی کا گیت ہو تو بھی زندگی کی دھوپ چھاؤں سنائی دیتی اور غم کا گیت ہو تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے مکیش صرف گانا نہیں گا رہے بلکہ خود وہ درد سہہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مکیش سروں کے بادشاہ سے کہیں زیادہ جذبات کے گلوکار تھے۔
ہندوستانی سینما میں مکیش اور راج کپور کی جوڑی ایک منفرد داستان ہے۔ راج کپور پردۂ اسکرین پر نظر آتے اور پس منظر میں مکیش کی آواز ابھرتی "جانے کہاں گئے وہ دن" تو ایک عام آدمی، اس کی محرومیاں، اس کے خواب و احساسات اور اس کی معصومیت جیسے ایک ساتھ بولنے لگتے۔ آوارہ سے شری 420 اور پھر میرا نام جوکر تک، مکیش کی آواز نے راج کپور کے کرداروں کو محض آواز نہیں دی بلکہ ان کے جذبات کو زبان بھی دی۔
یہ بجا کہ مکیش کی آواز سب سے زیادہ راج کپور پر پھبتی تھی لیکن مکیش کی گائیکی کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ کبھی کبھی میرے دل میں، جانے کہاں گئے وہ دن، کسی کی مسکراہٹوں پہ ہو نثار، کہیں دور جب دن ڈھل........
