Abadi Bomb Ya Governance Bomb?
آبادی بم یا گورننس بم؟
گزشتہ روز گیارہ جولائی کو دنیا بھر کی طرح مملکت خدادا میں بھی "عالمی یومِ آبادی" منایا گیا۔ ہر سال اس موقع پر یہی تاثر دیا جاتا ہے کہ غربت، بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم، صحت، خوراک کی قلت اور سماجی مسائل کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔
دوسرے لفظوں میں حکومت یہ کہنا چاہتی ہے مگر دل گردہ نہیں رکھتی کہ اگر آبادی نہ بڑھتی تو ملک خوشحال ہوتا، بیروزگاری چراغ لیکر ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتی، کوئی بچہ سکول سے باہر نہ ہوتا، لوگوں کی صحت ایسی ہوتی کہ ھسپتالوں میں ڈاکٹر کمیونٹی مریضوں کا انتظار کر کرکے تھک جاتی۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا مسئلہ آبادی نہیں بلکہ پاکستان کے مسائل کی جڑ بری گورننس ہے اور ملک کے تمام چھوٹے بڑے مسائل کا تعلق ناقص حکمرانی، کرپشن، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، کمزور منصوبہ بندی، شارٹ ٹرم پالیسیاں، لینڈ مافیا، بیوروکریسی اور اسکے اندر بیوروکریسی، محکمہ زراعت، زرعی پسماندگی اور صنعتی زوال سے ہے۔ آبادی کا عنصر اپنی جگہ موجود ضرور ہے مگر اسے تمام مسائل کی جڑ قرار دینا حقیقت کے عین الٹ........
