Neki Hasad Aur Aik Pyali Chaye
نیکی، حسد اور ایک پیالی چائے
کچھ دن لکھ نہ سکی۔ اس غیر حاضری کی معذرت۔ خیال البتہ برابر آتے رہے، وہ بھی پرانے وقتوں کے رشتے داروں کی طرح۔ نہ خط، نہ ٹیلی فون، بس اچانک دروازے پر آن کھڑے ہوئے۔ پھر ایسے جمے کہ جیسے گھر بار یاد تک نہیں۔ میں ان سب کی خاطر مدارات میں لگی رہی اور وقت، جو کسی کا مہمان نہیں ہوتا، خاموشی سے گزر گیا۔
مگر اس بار جاتے جاتے وہ مجھے ایک ایسی بات سمجھا گیا جس سے میں برسوں نظریں چراتی رہی تھی۔ انسان دوسروں کے معاملے میں کس قدر متعصب اور اپنے معاملے میں کیسا رعایت پسند واقع ہوا ہے۔ ہم دوسروں کے کردار میں معمولی سی دراڑ بھی ڈھونڈ لیتے ہیں، مگر اپنی ذات کے بڑے بڑے شگافوں سے عمر بھر صرفِ نظر کرتے رہتے ہیں۔ نفسیات کی زبان میں غالباً اسے Actor-Observer Bias کہتے ہیں۔ غضب یہ ہے کہ اب جب اپنے تعصبات سے چھٹکارا پانے کی ٹھان لی جائے تو یہ موئے تعصبات ہر قدم پر آڑے آنے لگتے ہیں۔
یونہی کل شام چائے پیتے ہوئے اپنے آپ کو کٹہرے میں کھڑا کیے بیٹھی تھی۔ سامنے نیم کے خزاں رسیدہ پتے ہوا میں سرسرا رہے تھے۔ میں بھی کچھ دیر اپنی ذات سے الگ ہو کر بیٹھ رہی، جیسے کسی پرانے شناسا کو پہلی مرتبہ غور سے دیکھ رہی ہوں۔
پھر دفعتاً اپنے آپ سے پوچھا، "تم لوگوں سے اتنی بدظن کیوں........
