Sawa Teen Crore Zehni Mareez: Har Ghar Ki Khamosh Kahani? (2)
سوا تین کروڑ ذہنی مریض: ہر گھر کی خاموش کہانی؟ (2)
تو کیا کیا جائے؟ یہاں آکر ہماری بحث کا رخ علاج سے پہلے روک تھام کی طرف ہونا چاہیے۔ ذہنی صحت کا علاج صرف اسپتال میں نہیں ہوتا، اس کا آغاز گھر سے بھی ہو سکتا ہے۔ بچوں کو ہر غلطی پر ڈانٹنے کے بجائے ان کی بات سننے سے، گھر میں تشدد کو معمول سمجھنے کے بجائے اسے روکنے سے، نوجوان کی بے روزگاری کو اس کی ناکامی سمجھنے کے بجائے اس کے ساتھ کھڑے ہونے سے، کسی پریشان شخص کا مذاق اڑانے کے بجائے اس کی بات سننے سےاور سب سے بڑھ کر ذہنی بیماری کو پاگل پن سمجھنے کے بجائے ایک قابلِ علاج صحت کا مسئلہ سمجھنے سے۔
اسکولوں میں بچوں کو ذہنی صحت کے بارے میں بنیادی آگاہی دی جا سکتی ہے۔ کام کی جگہوں پر شدید دباؤ کا شکار ملازمین کے لیے مدد کے راستے بنائے جا سکتے ہیں۔ بنیادی مراکز صحت کے عملے کو ابتدائی علامات پہچاننے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ذہنی صحت کے ماہرین علاج کے ساتھ ساتھ prevention اور community-based care پر بھی زور دیتے ہیں۔ WHO بھی ذہنی صحت کی خدمات کو لوگوں کے قریب، خصوصاً بنیادی صحت اور کمیونٹی کی سطح پر پہنچانے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
لیکن جو لوگ پہلے ہی بیمار ہیں، ان........
