menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Punjab Ki Khamosh Taqseem Pehle He Ho Chuki?

23 0
previous day

پنجاب کی خاموش تقسیم پہلے ہی ہو چکی؟

انتظامِ سلطنت کا بوجھ جب ایک مخصوص مرکز پر حد سے زیادہ بڑھ جائے، تو نظام اپنی افادیت اور تاثیر کھو دیتا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب اس وقت اسی انتظامی فالج کا شکار ہے۔ حال ہی میں اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے جو بازگشت سنائی دی ہے، بالخصوص محسن نقوی کا یہ بیان کہ نئے صوبوں کی تشکیل پر کام کی رفتار سوچ سے بھی زیادہ تیزی سے جاری ہے، اس بات کا غماز ہے کہ اب اس بوسیدہ انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اگرچہ سیاسی مصلحتوں کے تحت اس موضوع پر وقتاً فوقتاً مصلحتاً خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے، مگر زمینی حقائق یہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ پنجاب کی تقسیم اب کروڑوں انسانوں کے بنیادی حقوق کا ناگزیر ترین تقاضا ہے۔

قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ہمارے ہاں انتظامی اکائیوں کی تشکیلِ نو کو ہمیشہ سیاسی مفادات اور سرد مہری کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے۔ مرکزیت پسندی کی اس زہر آلود بیماری نے پنجاب کو دو ایسے حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے جو ایک دوسرے سے کوسوں دور معلوم ہوتے ہیں۔ ایک طرف وہ مراعات یافتہ اور ترقی یافتہ پنجاب ہے جو لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی کے اردگرد سمٹا ہوا ہے، جہاں ترقی کے تمام ثمرات اور وسائل کی ریل پیل ہےاور دوسری طرف وہ بدقسمت جنوبی پنجاب ہے جو کسمپرسی، پس ماندگی اور بنیادی انسانی سہولیات سے محرومی کی تاریکیوں میں دھکیلا جا چکا ہے۔ آئیں روایتی تعصبات اور مصلحتوں سے بالاتر ہو کر اس سنگین مسئلے کا احاطہ کریں اور اعداد و شمار کے آئینے میں دیکھیں کہ ریاست اپنے شہریوں کے حقوق کی فراہمی میں کہاں کھڑی ہے۔

اس دعوے کی صداقت جاننے کے لیے ہمیں کسی طویل........

© Daily Urdu (Blogs)