Faslein Haar Gayin, Janwar Jeet Gaye
فصلیں ہار گئیں، جانور جیت گئے
ہم بچپن سے مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں پڑھتے اور ماہرینِ معیشت کی زبانی سنتے آئے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ لیکن اگر ہم گزشتہ چند دہائیوں کی زرعی پالیسیوں، معاشی فیصلوں اور زمینی حقائق کو دیکھیں تو ہماری زرعی معیشت ایک تبدیلی سے گزر رہی ہے، جس پر توجہ نہ دی گئی تو ملک کے غذائی سیکیورٹی کے نظام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
چند دہائیاں پہلے پاکستان کی زرعی معیشت کا تمام تر انحصار فصلوں کی پیداوار پر تھا۔ 1998 میں قومی جی ڈی پی میں فصلوں کا حصہ 17.1 فیصد تھا، جبکہ لائیو اسٹاک کا حصہ 11.7 فیصد ہوا کرتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فصلوں پر توجہ کم ہوتی گئی اور 2005 تک پہنچتے پہنچتے دونوں شعبے مساوی سطح پر آ گئے، جبکہ 2010 میں لائیو اسٹاک کا حصہ فصلوں کے مقابلے میں بڑھنا شروع ہوا۔ پاکستان اکنامک سروے 2025 کے اعداد و شمار اس ڈرامائی تبدیلی کی مکمل تصویر پیش کرتے ہیں۔ اس سروے کے مطابق ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں زرعی شعبے کا مجموعی حصہ 23.4 فیصد ہے۔ زرعی شعبے میں لائیو اسٹاک کا حصہ اب بڑھ کر 62 فیصد ہو چکا ہے، جبکہ فصلوں کا حصہ سکڑ کر صرف 38 فیصد رہ گیا ہے۔ سادہ الفاظ میں، قومی جی ڈی پی میں جانوروں اور ان سے وابستہ سرگرمیوں کا حصہ تقریباً 15 فیصد بنتا ہے، جبکہ ہماری روایتی فصلوں........
