Shehr e Quaid Ke Sarkari Hospitals Ki Abtar Halat
شہرِ قائد کے سرکاری اسپتالوں کی ابترحالت
شہرِ قائد کے سرکاری اسپتال آج علاج گاہوں سے زیادہ مسائل گاہیں بنے ہوئے ہیں۔ تین کروڑ سے زائد آبادی والے اس شہر میں سرکاری اسپتالوں کی تعداد پہلے ہی انتہائی کم ہے۔ کراچی صرف اپنے شہریوں کی صحت کی ضروریات پوری کرنے والا شہر نہیں بلکہ اندرونِ سندھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے غریب اور بے وسیلہ عوام کے لیے علاج کی آخری امید بھی سمجھا جاتا ہے۔ لوگ دور دراز علاقوں سے اپنی بیماری کا علاج کروانے کراچی آتے ہیں اور اسے امیدوں کا شہر سمجھتے ہیں، لیکن افسوس کہ اس شہر میں سرکاری اسپتالوں کی تعداد آبادی اور ضرورت کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔
جو سرکاری اسپتال موجود ہیں، چاہے وہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہوں یا صوبائی حکومت کے، ان میں بھی علاج معالجے کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ ادویات کی شدید قلت ہے۔ مریضوں کو سرکاری اسپتالوں میں علاج کے دوران ضروری ادویات باہر سے خرید کر لانے کے لیے کہا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک غریب مریض سرکاری اسپتال میں بھی اپنی ضروری دوائیں خریدنے پر مجبور ہے تو پھر سرکاری اسپتال کا بنیادی مقصد کیا رہ جاتا ہےسرکاری اسپتال ہونے کا مطلب صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ڈاکٹر کی فیس نہیں ہوگی، او پی ڈی مفت ہوگی یا مریض کو ایک بیڈ فراہم کردیا جائے گا۔ سرکاری اسپتال کا حقیقی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مریض کے ابتدائی چیک اَپ سے لے کر مکمل علاج، آپریشن اور صحت یابی تک ضروری طبی سہولیات ریاست فراہم کرے۔ ادویات، ایکسرے، ٹیسٹ، ایم آر آئی، آپریشن اور دیگر تمام ضروری سہولیات مریض کو بلا تفریق فراہم کی جائیں اور اسپتال کو اتنے وسائل دیے جائیں کہ وہ مریضوں کا مؤثر اور مکمل علاج........
