Roshniyon Ke Shehar Mein Tareekiyon Ka Raj
روشنیوں کے شہرمیں تاریکیوں کا راج
اس ملک کی بدنصیبی یہ ہے کہ جو شہر پورے پاکستان کی معیشت کا پہیا چلاتا ہے، جو قومی خزانے کو سب سے زیادہ ریونیو اور ٹیکس فراہم کرتا ہے اور جسے فخر سے "روشنیوں کا شہر" اور "شہرِ قائد" کہا جاتا ہے، وہ آج خود تاریخ کے تاریک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ بات صرف چند گلیوں یا محلوں کی نہیں ہے، بلکہ تین کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی کا ایک ایسا انسانی المیہ ہے جسے روزانہ کی بنیاد پر زندہ درگور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور ایشیاء کی سب سے بڑی کچی آبادی اورنگی ٹاؤن سمیت قصبہ کالونی، بنارس منگھو پیر، اولڈسٹی ایریا لیاری، لانڈھی، کورنگی اور مختلف پسماندہ و مضافاتی علاقوں کے باسی کن کٹھن حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہاں چوبیس گھنٹوں میں سے اٹھارہ سے بیس گھنٹے تک ظالمانہ، غیر اعلانیہ اور ناروا لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ روز کا معمول بن چکا ہے۔ صبح سویرے سے تپتی دھوپ، شدید حبس اور گرمی میں اپنے بچوں کے دو وقت کی روٹی کے لیے سخت محنت مزدوری کرنے والا مزدور جب تھکا ہارا اپنے گھر لوٹتا ہے، تو اسے چھت کے نیچے سکون کا ایک لمحہ بھی میسر نہیں آتا۔ چاروں طرف گھپ........
