Pakistan, Dharti Par Jannat Nazir Tukra
پاکستان، دھرتی پر جنت نظیر ٹکڑا
اللہ رب العزت نے پاکستان کو دنیا کے خوبصورت ترین خطوں سے نوازا ہے۔ یہاں کے بلند و بالا پہاڑ، نیلگوں جھیلیں، سرسبز و شاداب وادیاں اور فلک بوس چوٹیوں پر جما ہوا برف کا حسن انسان کو دنگ کر دیتا ہے۔ زندگی کی مصروفیات اور روزمرہ کی گہما گہمی سے کچھ دیر کے لیے کٹ کر قدرت کے دامن میں وقت گزارنا روح کو ایک تازگی بخشتا ہے۔
10 جولائی سے 23 جولائی تک مجھے اپنے محترم بھائیوں، ملک کے مشہور قراء قاری سمیع الرحمن فاروقی اور انٹرنیشنل ایوارڈ یافتہ قاری نعیم الرحمن فاروقی، صاحبزادے محمد سفیان فاروقی اور بھتیجوں محمد ریان فاروقی اور محمود شحات فاروقی کے ہمراہ پاکستان کے شمال کے شاندار اور سحر انگیز دورے کا موقع ملا۔ یہ چودہ دن ہماری زندگی کے ناقابلِ فراموش اور حسین ترین دن ثابت ہوئے۔
ہمارے اس خوبصورت سفر کا آغاز 10 جولائی کو باقاعدہ طور پر شہرِ قائد کراچی سے ہوا۔ زمینی راستے اور موٹروے کے طویل مگر پرلطف سفر کو طے کرتے ہوئے ہم بحفاظت اسلام آباد پہنچے۔ اسلام آباد میں کچھ دیر آرام کے بعد ہم نے مری اور نتھیا گلی کا رخ کیا۔ کچھ دیر گھوم پھرنے کے بعد براستہ ایبٹ آباد، ہزارہ موٹروے کا رخ کیا۔
ہزارہ موٹروے سے سفر کرتے ہوئے جب ہم شاطے انٹرچینج پر اتر کر ناران روڈ کی طرف مڑے، تو عطر شیشہ کے مقام پر ہمارے عزیز احسان الحق صاحب نے اپنے ہوٹل پر انتہائی پُرتکلف ناشتے سے ہماری تواضع کی اور بہترین مہمان نوازی کی۔ ان کے والدِ محترم کی عیادت کا شرف بھی حاصل ہوا اور گاؤں کے دیسی ماحول، کھلے پن اور خالص دیہاتی زندگی کا نظارہ کرکے دل باغ باغ........
