menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khatam e Nabuwat: Ummat Ka Eman

28 0
07.09.2026

ختمِ نبوت: امت کا ایمان

7 ستمبر کا دن تاریخِ پاکستان میں ایک ایسے فیصل کن اور تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جب طویل آئینی و پارلیمانی کشمکش اور فکری و علمی مجادلے کے بعد اس نظریاتی ریاست کے اصل خدوخال پر مہرِ تصدیق ثبت کی گئی۔ یہ دن اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ اس خطے کی بنیاد جن کلمہ طیبہ کے مقدس رشتوں اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی پاسداری پر رکھی گئی تھی، اس کی حفاظت کے لیے ملت کا ہر فرد اور ریاستی ڈھانچہ ہمیشہ مستعد رہے گا۔

​عقیدۂ ختمِ نبوت دراصل دینِ اسلام کا وہ بنیادی قلعہ ہے جس پر عمارتِ دین کی بقا کا دارومدار ہے۔ ختمِ نبوت کا مطلب یہ ہے کہ نبوت کا باب جنابِ محمد رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔ اب قیامت تک نہ کوئی نیا نبی آئے گا اور نہ ہی کسی قسم کی تشریعی یا غیر تشریعی نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ یہ عقیدہ امتِ مسلمہ کے شیرازے کو مضبوط رکھنے والا وہ محور ہے جس پر اسلامی وحدت کا سارا تانا بانا بنا ہوا ہے۔ جب بھی کسی دور میں اس عقیدے میں نقب لگانے کی کوشش کی گئی، ملتِ اسلامیہ نے پوری قوت، بیداری اور دینی حمیت کے ساتھ اس کا سدِ باب کیا۔

​برصغیر پاک و ہند کی تاریخ اس حقیقت سے روشن ہے کہ جب بھی ناموسِ رسالت اور ختمِ نبوت پر کوئی آنچ آئی، یہاں کے علماء، مشائخ اور عوام نے سینہ سپر ہو کر اس کا مقابلہ کیا۔ تحریکِ ختمِ نبوت 1974ء اسی سلسلے کی ایک جلی اور........

© Daily Urdu (Blogs)