Islamabad Mein Taleemi Idaron Ki Bandish
اسلام آباد میں تعلیمی اداروں کی بندش
وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آبادمیں 22 ستمبر سے 24 سرکاری تعلیمی ادارے بند کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ سیاسی تنظیموں کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اضافی پولیس نفری طلب کی جائے گی اور ان سرکاری اسکولوں کی عمارتوں میں پولیس اہلکاروں کو رہائش فراہم کی جائے گی۔ آخر ہمارے تعلیمی ادارے کب تک ہر ہنگامی صورتِ حال، ہر انتظامی ضرورت اور ہر مشکل وقت کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔
یہ افسوسناک پہلو ہے کہ جب بھی کوئی ہنگامی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے، کوئی مشکل سامنے آتی ہے یا کسی مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو سب سے پہلے تعلیمی اداروں کی طرف توجہ جاتی ہے۔ کسی بھی مسئلے کا حل تلاش کرتے ہوئے یہ سوچنا شاید آسان سمجھا جاتا ہے کہ اسکول بند کر دیے جائیں، طلبہ کو گھروں تک محدود کر دیا جائے اور تعلیمی سرگرمیوں کو وقتی طور پر روک دیا جائے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ باقی تمام معاملات اپنی جگہ برقرار رہ سکتے ہیں، لیکن تعلیمی اداروں کو بند کرنا ہر مسئلے کا ایک آسان اور فوری حل تصور کیا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے یہ طرزِ عمل اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ کبھی سیاسی احتجاج کے پیش نظر اسکول بند کر دیے جاتے ہیں، کبھی سکیورٹی کے نام پر تعلیمی سرگرمیاں معطل کر دی جاتی ہیں، کبھی کسی انتظامی ضرورت کے تحت اسکولوں کی عمارتیں استعمال میں لائی جاتی ہیں اور کبھی کسی اور مسئلے کو بنیاد بنا کر طلبہ کو تعلیم سے دور کر دیا جاتا ہے۔ اس تمام صورتِ حال میں سب سے زیادہ نقصان ہمارے ان بچوں کا ہوتا ہے جو پہلے ہی تعلیمی سہولیات کی کمی، محدود وسائل اور مختلف مشکلات کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہمیں اس حقیقت کو........
