menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Fuel Relief Package: Mazeed Relief Naguzeer

25 0
15.09.2026

فیول ریلیف پیکج: مزید ریلیف ناگزیر

وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی جانب سے فیول ریلیف پیکج کا اعلان بلاشبہ ایک خوش آئند اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نے عالمی معیشت کو شدید متاثر کر رکھا ہے، حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ اس ریلیف پیکج کو ایک وقتی اقدام تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس میں بتدریج اضافہ بھی کیا جائے، تاکہ عام آدمی کو حقیقی معنوں میں سہارا مل سکے۔

پاکستانی عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور روزمرہ اخراجات کے بڑھتے ہوئے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کی مشکلات کو مزید بڑھا رہا ہے۔ عالمی منڈی میں جس تیزی سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں، اس کے اثرات پاکستان میں بھی براہِ راست محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 258 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 382 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ مستقبل میں مزید اضافے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال صرف گاڑی چلانے والوں کے لیے پریشانی کا باعث نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

پٹرولیم مصنوعات ایسی بنیادی ضرورت ہیں جن کا تعلق ملک بھر کی تقریباً تمام معاشی سرگرمیوں سے ہے۔ ٹرانسپورٹ ہو یا زراعت، صنعت ہو یا تجارت، اشیائے خوردونوش کی ترسیل ہو یا روزمرہ زندگی کی دیگر ضروریات، ہر شعبے پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اثر پڑتا ہے۔ جیسے ہی پٹرول کی قیمت میں معمولی سا اضافہ ہوتا ہے، اس کے اثرات فوری طور پر عام اشیاء کی قیمتوں پر پڑنے لگتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، آٹا، چینی، دالیں اور دیگر اشیائے خوردونوش مہنگی کر دی جاتی ہیں۔ یوں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے........

© Daily Urdu (Blogs)