6 September: Milli Wahdat Aur Difai Tareekh Ka Roshan Baab
6 ستمبر: ملی وحدت اور دفاعی تاریخ کا روشن باب
تاریخ کے جھروکوں میں کچھ دن قوموں کی رگوں میں دوڑتے ہوئے لہو، ان کے عزمِ محکم اور بقا کی جنگ کے استعارے بن جاتے ہیں۔ چھ ستمبر کا دن پاکستانی تاریخ کا ایسا ہی ایک درخشاں باب ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نظریے، جغرافیے اور خودمختاری کے دفاع کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن جائے، تو دشمن کی عددی برتری اور مکارانہ چالیں ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں 1965 کا یہ دن اس وقت کے تاریخی پس منظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب جب دشمن نے بین الاقوامی سرحدوں کو پھلانگ کر ارضِ وطن پر بزدلانہ شب خون مارا، تو اس کا مقصد ایک علاقے پر قبضہ نہیں بلکہ پاکستان کی نظریاتی و جغرافیاتی اساس کو پارہ پارہ کرنا تھا۔ دشمن کو یہ غلط فہمی تھی کہ یہ نئی مملکت چند روز کی مہمان ہے اور دفاعی ساز و سامان کی برتری کے بل بوتے پر وہ لاہور کے قین خانہ میں ناشتہ کرے گا۔ لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے........
