Yaadon Ke Bikhre Tukre Aur Udas Chandani
یادوں کے بکھرے ٹکڑے اور اداس چاندنی
آج رات، آسمان تاروں کی نیلگوں مخمل پر کسی دوشیزہ کے بکھرے ہوئے زیورات کی طرح چمک رہا ہے اور میں اس اکیلی چھت پر تنہا کھڑا ہوں، بالکل اُسی طرح جیسے کائنات کے کسی ویران کونے میں کوئی پرانی نظم پڑی رہ گئی ہو۔ میرے عین سامنے چاند ہے۔ وہ چاند جو اتنا ہی اکیلا ہے جتنا کہ میں۔ اس کی سرد، سفید چاندنی چھت پر اس طرح پھیل گئی ہے جیسے کسی نے خاموشی کی چادر تان دی ہو۔
میں چاند کو دیکھتا ہوں اور وہ مجھے دیکھتا ہے۔ ہمارے درمیان کوئی گفتگو نہیں، مگر ایک گہرا ابدی ربط ہے۔ سامنے پھیلے ہوئے کھیت اندھیرے میں یوں سستانے لگے ہیں جیسے کوئی تھکا ہارا کسان دن بھر کی مشقت کے بعد گہری نیند سو گیا ہو۔ شیشم اور پیپل کے درخت کھڑے ہیں، خاموش، ساکت۔ پیپل کے پتے ایسے ہلتے ہیں جیسے گزرے ہوئے زمانوں کے ہاتھ الوداع کہہ رہے ہوں۔
کائنات کبھی کبھی اپنے سارے راز کھول کر کسی کچے مکان کے صحن میں ڈھیر کر دیتی ہے۔ آج رات بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ کوئی عام تاروں بھری رات........
