menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Maqbooliat Ki Talab Ya Raza e Elahi Ki Justju?

27 0
24.10.2026

مقبولیت کی طلب یا رضائے الٰہی کی جستجو؟

انسان کی زندگی میں عزت، پہچان اور پذیرائی کی خواہش ایک فطری امر ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی محنت کو تسلیم کیا جائے، اس کے کردار کی قدر ہو اور معاشرے میں اسے ایک باوقار مقام حاصل ہو۔ لیکن اس خواہش کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی وابستہ ہے: کیا کامیابی کا معیار لوگوں کی نظروں میں مقبول ہونا ہے یا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنا؟ یہی سوال انسان کی ترجیحات، اس کے کردار اور زندگی کے مقصد کا تعین کرتا ہے۔

مقبولیت کی خواہش اس وقت تک قابلِ فہم ہے جب تک وہ انسان کو اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے، مثبت کردار ادا کرنے اور معاشرے کے لیے مفید بننے کی ترغیب دیتی رہے۔ لیکن جب لوگوں کی تعریف زندگی کا بنیادی مقصد بن جائے تو ترجیحات بدلنے لگتی ہیں۔ انسان اپنے اعمال کی درستی سے زیادہ ان کے تاثر کی فکر کرنے لگتا ہے۔ اسے اس بات سے زیادہ دلچسپی ہونے لگتی ہے کہ لوگ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ اپنے کردار اور عمل کا کس طرح جائزہ لے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مقبولیت کی خواہش انسان کی فکری آزادی اور اخلاقی استقامت پر اثرانداز ہونے لگتی ہے۔

جب انسان اپنی قدر و قیمت کا پیمانہ دوسروں کی رائے کو بنا لیتا ہے تو وہ رفتہ رفتہ اپنی ترجیحات کا اختیار بھی دوسروں کے حوالے کر دیتا ہے۔ پھر تعریف اس کے لیے اطمینان اور تنقید بے چینی کا سبب بن جاتی ہے۔ وہ بعض اوقات درست بات کہنے سے بھی گریز کرتا ہے، محض اس خوف سے کہ کہیں اس کی مقبولیت متاثر نہ ہو جائے۔ اس طرح لوگوں کو خوش رکھنے کی کوشش میں وہ اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کرنے لگتا ہے، حالانکہ کردار کی اصل مضبوطی اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب انسان پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر حق اور دیانت کا ساتھ دیتا ہے۔

یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ شہرت اور مقبولیت بذاتِ خود نہ کسی کی نیکی کا قطعی ثبوت ہیں اور نہ عدمِ شہرت کسی کی بے قدری کی دلیل۔ بہت سے لوگ خاموشی سے ایسے کام انجام دیتے ہیں جن کے اثرات دوسروں کی زندگیوں میں نمایاں ہوتے ہیں، لیکن ان کا نام کبھی کسی بڑے پلیٹ فارم پر........

© Daily Urdu (Blogs)