menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

7 September 1974 Tareekhi Faisla Aur Hamari Zimmedari

38 0
07.09.2026

7 ستمبر 1974ء تاریخی فیصلہ اور ہماری ذمہ داری

عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہے جن پر مسلمان کا ایمان قائم ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم نے رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا اور اس کے بعد نبوت کے کسی دعوے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہ مسئلہ محض ایک تاریخی یا سیاسی بحث نہیں بلکہ اسلامی عقیدے کی بنیادی بحث ہے۔ اسی لیے امتِ مسلمہ نے ہر دور میں ختمِ نبوت ﷺ کے عقیدے کی وضاحت اور اس کے تحفظ کو دینی ذمہ داری سمجھا۔

برصغیر کی تاریخ میں اس عقیدے کے تحفظ کی علمی جدوجہد ایک طویل روایت رکھتی ہے۔ فتنہ قادیانیت کے وجود میں آنے کے بعد علماء نے اس کے بنیادی دعووں کا قرآن و سنت اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی روشنی میں جائزہ لیا اور علمی سطح پر اس کا رد کیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد یہ مسئلہ قومی سطح پر بھی زیرِ بحث آتا رہا۔ 1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت اس سلسلے کا ایک اہم واقعہ تھی۔ اس تحریک میں ملک کے مختلف دینی حلقے شریک ہوئے، تاہم اس دور کے واقعات میں ہونے والے تشدد اور جانی نقصان نے یہ بھی واضح کیا کہ مذہبی مطالبات کے اظہار میں آئینی اور پُرامن راستے کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔

1974ء میں یہ مسئلہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ ربوہ میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد ملک میں کشیدگی بڑھی اور قادیانی مسئلہ ایک مرتبہ پھر پارلیمان کے سامنے آیا۔ حکومت اور اپوزیشن کے ارکان پر مشتمل خصوصی پارلیمانی عمل شروع ہوا۔ اس عمل میں مختلف مکاتبِ فکرکے علماء اور قادیانی جماعت کے نمائندے بھی اپنا موقف پیش کرتے رہے۔ معاملہ محض ایک سیاسی قرارداد تک محدود........

© Daily Urdu (Blogs)