Sohail Ahmed Ki Raye
واشنگٹن کی وہ رات غیر معمولی تھی، سرد ہوا میں ہلکی سی نمی تھی، وائٹ ہاؤس کی سفید دیواریں روشنیوں میں نہا رہی تھیں، سکیورٹی کے سخت حصار کے اندر ایک ایسا ہال سجا ہوا تھا جہاں دنیا کے طاقتور ترین لوگ موجود تھے، مہمان آہستہ آہستہ اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے، سرگوشیاں ہو رہی تھیں، کیمروں کی آنکھیں ہر حرکت کو قید کر رہی تھیں اور پھر ایک لمحہ ایسا آیا جب دروازہ کھلا، ہال میں ایک ہلکی سی خاموشی چھا گئی، سب کی نظریں ایک سمت اٹھ گئیں، ایک شخص اندر داخل ہوا، نہ وہ کوئی وزیر تھا، نہ وہ کوئی جرنیل تھا، نہ وہ کوئی طاقتور سیاستدان تھا، وہ ایک کامیڈین تھا، اسٹیفن کولبرٹ۔
وہ اسٹیج کی طرف بڑھا، مائیک کے سامنے کھڑا ہوا اور اس کے سامنے پہلی صف میں بیٹھا تھا دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا صدر جارج بش، چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے بولنا شروع کیا، جملے طنز سے بھرے ہوئے تھے، ہال میں قہقہے گونجنے لگے، مگر انہی قہقہوں کے درمیان سچ کی کاٹ بھی تھی اور سب سے حیران کن منظر یہ تھا کہ صدرِ امریکہ خود مسکرا رہا تھا، تالیاں بجا رہا تھا، جیسے وہ یہ پیغام دے رہا ہو کہ اختلاف جرم نہیں ہوتا، سچ کو سننا کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہوتی ہے، یہ 2006ء کا امریکہ تھا جہاں ایک کامیڈین کو اس کے فن کی بنیاد پر عزت دی جاتی ہے نہ کہ اس کی رائے کی بنیاد پر اسے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔
برصغیر کی روایت تو اس سے بھی زیادہ گہری رہی ہے، جب مہدی حسن بھارت جاتے تھے تو ان کے لیے خصوصی محفلیں سجائی جاتیں، لوگ کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے، ان کی آواز کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا، اسی طرح نصرت فتح علی خان جب سرحد پار جاتے تو انہیں صرف ایک گلوکار نہیں بلکہ ایک ادارہ سمجھا جاتا، حکومتی سطح پر........
