menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jab Dard Honton Par Ruk Jaye

27 0
06.10.2026

جب درد ہونٹوں پر رک جائے

ایک بادشاہ نے ایک شخص کو موت کی سزا سنائی اور جلاد کو حکم دیا کہ اسے لے جاؤ اور اس کا سر قلم کر دو۔ وہ شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا تھا۔ موت اس کے سامنے تھی اور زندگی اس کے پیچھے رہ گئی تھی۔ اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ اس نے بادشاہ سے کہا، "بادشاہ سلامت! اگر آپ مجھے ایک سال کی مہلت دے دیں تو میں آپ کے سب سے قیمتی گھوڑے کو اڑنا سکھا سکتا ہوں۔ "

بادشاہ نے حیرت سے اسے دیکھا اور کہا، "کیا تم پاگل ہو؟ گھوڑے کبھی اڑتے ہیں؟"

اس شخص نے جواب دیا، "بادشاہ سلامت! یہ فن میرے علاوہ کسی کو نہیں آتا۔ اگر آپ مجھے ابھی قتل کر دیں گے تو یہ فن بھی میرے ساتھ مر جائے گا۔ آپ مجھے ایک سال دے دیں۔ اگر میں گھوڑے کو اڑنا سکھا دوں تو میری جان بخش دیجیے گا اور اگر نہ سکھا سکا تو ایک سال بعد میرا سر قلم کر دیجیے گا۔ "

بادشاہ نے سوچا، شاید یہ شخص پاگل ہے، مگر پھر بھی اس نے حکم دیا کہ اسے شاہی اصطبل کا سب سے قیمتی گھوڑا دے دیا جائے۔

وہ شخص اصطبل کی طرف جا رہا تھا تو ایک درباری نے اس سے کہا، "تمہیں معلوم ہے گھوڑے اڑتے نہیں، پھر تم نے بادشاہ سے یہ کیوں کہا؟"

اس شخص نے گھوڑے کی طرف دیکھا، مسکرایا اور بولا، "بادشاہ نے مجھے آج مارنا تھا، اب ایک سال بعد مارنا ہے۔ ایک سال میں بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ بادشاہ مر سکتا ہے، میں مر سکتا ہوں، جنگ ہو سکتی ہے، کوئی معجزہ ہو سکتا ہے، حالات بدل سکتے ہیں اور شاید گھوڑا ہی اڑنا سیکھ جائے۔ "

وہ شخص دراصل گھوڑے کو اڑانے سے زیادہ زندگی کو ایک اور موقع دے رہا تھا۔

ہم سب کی زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا گھوڑا ضرور آتا ہے جس کے بارے میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ شاید وہ کبھی نہیں اڑے گا، لیکن ہم پھر بھی اس کے اڑنے کی امید میں سال گزار دیتے ہیں۔

کسی کے لیے وہ ایک رشتہ ہوتا ہے۔ کسی کے لیے کوئی محبت۔ کسی کے لیے گھر کے حالات۔ کسی کے لیے بیماری۔ کسی کے لیے معاشی مشکلات اور کسی کے لیے صرف یہ خواہش کہ کاش میں کسی ایک اپنے کے سامنے بیٹھ کر اپنے دل کی پوری بات کہہ سکوں۔

یہ آخری اذیت شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔

جب آپ کے اردگرد لوگ ہوں مگر آپ اکیلے ہوں۔ جب آپ کے اپنے لوگ آپ کے سامنے بیٹھے ہوں مگر آپ ان سے اپنے دل کی بات نہ کر سکیں۔ جب آپ کسی دوست کا چہرہ دیکھیں، دل میں طوفان اٹھ رہا ہو، آنکھیں نم ہونے لگیں، دل چاہے کہ ابھی سب کچھ بتا دوں، ابھی کہہ دوں کہ میں اندر سے ٹوٹ رہا ہوں، ابھی اس کے کندھے پر سر رکھ کر رو لوں، ابھی اسے بتا دوں کہ کئی راتوں سے میں خود کو سمجھاتے سمجھاتے تھک چکا........

© Daily Urdu (Blogs)