menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Seekhna Kis Tarah Aata Hai

29 0
03.04.2026

سیکھنا کس طرح آتا ہے؟

1999 کا سال تھا۔ نئی دہلی کا ایک غریب محلہ تھا۔ ڈاکٹر سگاٹا مترا نے ایک عجیب کام کیا۔ اس نے دیوار میں سوراخ کیا۔ اس میں کمپیوٹر لگا دیا۔ کوئی استاد نہیں تھا۔ کوئی نصاب نہیں تھا۔ کوئی نگرانی نہیں تھی۔ سامنے کچی بستی کے بچے تھے۔ غریب، ننگے پاؤں، دنیا کے حساب سے نااہل۔ لیکن چند گھنٹوں میں وہ کمپیوٹر تک پہنچ گئے۔ چند دنوں میں مشین کو سمجھنا شروع کر دیا۔ پھر انٹرنیٹ ڈھونڈ لیا، پھر الفاظ پہچانے، پھر معلومات نکالیں، پھر سوال پیدا کیے۔ ڈاکٹر مترا نے اس تجربے کو ہول اِن دا وال کا نام دیا۔ نتیجہ سادہ تھا: بچہ پہلے سے سیکھنے والا ہوتا ہے۔ اسے صرف راستہ چاہیے، روک ٹوک نہیں۔ جستجو چاہیے، حکم نہیں۔

یہ واقعہ پڑھا تو مجھے اپنا زمانہ یاد آ گیا۔ سال 2004 میں پاکستان اسلامک اکیڈمی میں سر مزمل کے دفتر میں پہلی بار........

© Daily Urdu (Blogs)