menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Diyar e Ghair Mei Eid

35 0
27.03.2026

بارسلونا میں عید کی صبح ہمیشہ تھوڑی بے رحم ہوتی ہے۔ سورج وقت پر نکل آتا ہے۔ سڑکیں وقت پر کھل جاتی ہیں۔ بیکریوں میں روٹی وقت پر سج جاتی ہے۔ بسیں اپنے راستے پر چلتی رہتی ہیں۔ سیاح اپنی تصویریں بناتے رہتے ہیں۔ شہر کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آج عید ہے۔ یہاں عید آسمان سے نہیں اترتی، فون کی سکرین پر نمودار ہوتی ہے۔ اذان میناروں سے نہیں آتی، موبائل کی ایک چھوٹی سی آواز سے کمرے میں پھیلتی ہے۔ آپ اٹھتے ہیں، وضو کرتے ہیں، کپڑے پہنتے ہیں اور ایک لمحے کے لیے خود سے پوچھتے ہیں، کیا واقعی آج عید ہے، پردیس کی سب سے گہری تنہائی یہی ہے۔ آپ کے دل میں تہوار ہوتا ہے اور شہر کے کیلنڈر میں کچھ بھی نہیں ہوتا؟

میری یہ چھٹی عید ہے جو میں گھر سے دور گزار رہا ہوں۔ میں بارسلونا میں پی ایچ ڈی کر رہا ہوں۔ پہلے سال مجھے لگا تھا انسان عادت ڈال لیتا ہے۔ دوسرے سال سمجھ آیا عادت اور قبولیت دو الگ چیزیں ہیں۔ تیسرے سال پتا چلا کہ پردیس میں خوشی بھی ڈیوٹی کی طرح ادا کرنی پڑتی ہے اور اس عید الفطر کی صبح میں مسجد جاتے ہوئے میرے دل میں عجیب سا سکوت تھا، جیسے اندر کوئی بات پہلے سے بیٹھی میرا انتظار کر رہی ہو۔

بارسلونا کے ایک نواحی علاقے سردانیولا میں ایک چھوٹی سی مسجد ہے۔ مراکش، پاکستان، بنگلہ دیش، سینیگال، شام۔ رنگ الگ، زبانیں الگ، لہجے الگ، مگر........

© Daily Urdu (Blogs)