menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bursa Ka Fateh Aur Gallipoli Ka Zalzala

27 0
12.08.2026

برسا کا فاتح اور گلی پولی کا زلزلہ

باہر سوغوت اور برسا کے پہاڑوں پر رات کی سرد ہوا چل رہی ہے اور میرے خیمے کے نمدے سے چھن کر آنے والی مشعل کی روشنی اس پرانی شمشیر پر پڑ رہی ہے جس پر میرے والد کے ہاتھ کے نشان اب بھی ثبت ہیں۔ میں اپنے بستر پر لیٹا اس بھاری تانبے کے کاسے کو دیکھ رہا ہوں جس میں میرے دادا ارطغرل غازی نے کبھی وادیِ اناطولیہ کی مٹی رکھی تھی۔ میری ہڈیاں، جو نوے سال سے زیادہ وقت تک گھوڑے کی کاٹھی پر جمے رہنے کی وجہ سے اب بے جان ہو چکی ہیں، مجھے یاد دلا رہی ہیں کہ اب اس سفر کا آٹھواں عشرہ ختم ہونے کو ہے۔

لوگ مجھے ایک عظیم امارت کا دوسرا چہرہ کہتے ہیں، وہ شخص جس نے چرواہوں اور خانہ بدوشوں کے ایک چھوٹے سے قبیلے کو ایک ایسی سلطنت میں بدل دیا جس کی فصیلیں اب یورپ کے دروازے پر کھڑی ہیں۔ لیکن اس وقت، جب برسا کے سفید گنبد میری آخری آرام گاہ بننے کے لیے تیار ہیں، میرا ذہن اس شاہی جاہ و جلال سے دور، دردانیال (Dardanelles) کی ان بپھری ہوئی لہروں کی طرف جا رہا ہے جہاں میرے جوان بیٹے سلیمان نے رات کے اندھیرے میں لکڑی کے تختوں پر بیٹھ کر تاریخ کے دھارے کو ہمیشہ کے لیے یورپ کی طرف موڑ دیا تھا۔

میری کہانی کا آغاز سلطنت کے ان ابتدائی دنوں سے ہوتا ہے جب ہمارے پاس رہنے کو کوئی پختہ محل نہیں تھا۔ میری پیدائش سنہ 1281 عیسوی کے آس پاس ہوئی، جب میرے والد، عثمان غازی، سلجوقوں کی سرپرستی میں ایک چھوٹی سی سرحدی امارت (Beylik) چلا رہے تھے۔ ہم قائی قبیلے کے لوگ تھے، جن کا کل سرمایہ ان کے مویشی، ان کے خیمے اور ان کا وہ غیر متزلزل ایمان تھا جو انہیں بازنطینی سرحدوں پر جہاد کے لیے ابھارتا تھا۔ بچپن ہی سے میں نے تلواروں کی جھنکار اور گھوڑوں کے ہنکرانے کی آوازوں میں پرورش پائی۔ میرے والد نے مجھے صرف لڑنا نہیں سکھایا، بلکہ انہوں نے مجھے صوفی بزرگ شیخ ادیبالی کے آستانے پر بیٹھ کر یہ سکھایا کہ ایک سچی اسلامی ریاست کا خواب عدل اور علم کے بغیر کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔

مجھے یاد ہے جب ہم سردیوں میں وادیوں کی طرف کوچ کرتے اور گرمیوں میں پہاڑوں پر خیمے لگاتے۔ اس وقت عثمانیوں کی کوئی مستقل سرحد نہیں تھی، بلکہ ہر دن ایک نیا معرکہ اور ہر رات ایک نیا پہرا ہوتی تھی۔ بازنطینی قلعہ دار ہماری بستیوں پر حملے کرتے تھے اور ہم اپنی بقا کے لیے ان سے ٹکراتے تھے۔ انھی کٹھن حالات نے میرے اندر کے سپاہی کو جلا بخشی اور مجھے یہ سکھایا کہ زمین پر حکومت کرنے کے لیے صرف بہادری کافی نہیں، بلکہ ایک مضبوط عزم اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔

جب سنہ 1326 عیسوی میں میرے والد اس دنیا سے رخصت ہونے لگے، تو وہ ایک طویل علالت کا شکار تھے۔ انہوں نے مجھے اپنے بستر کے قریب بلایا اور ان کی آنکھوں میں ایک عجیب تڑپ تھی۔ انہوں نے کھڑکی سے باہر دور افق پر نظریں جماتے ہوئے مجھ سے ایک وصیت کی تھی: "بیٹے! برسا کو فتح کرو اور وہاں اسلام کا پرچم لہراؤ۔ مجھے اس وقت تک قبر میں چین نہیں آئے گا جب تک اس عظیم شہر کے برجوں پر ہمارا جھنڈا نہ لہرا جائے"۔

برسا اس وقت اناطولیہ میں بازنطینی سلطنت کا سب سے بڑا، مایہ ناز اور مضبوط ترین گڑھ تھا، جس کے چاروں طرف اونچی فصیلیں اور قدرتی پہاڑی دفاع موجود تھا۔ میں نے اپنے والد کی وفات کے فوراً بعد اپنی........

© Daily Urdu (Blogs)