menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bhikari e Azam Ki Saltanat

26 0
13.10.2026

بھکاریِ اعظم کی سلطنت

پاکستان کی سیاست بھی عجیب تماشا ہے۔ یہاں کوئی اسپتال کے نام پر چندہ جمع کرکے مسیحا بن جاتا ہے، کوئی ووٹوں کے سہارے مسندِ اقتدار تک پہنچنے کے خواب دیکھتا ہے اور کوئی اپنے قائد کی رہائی کے لیے ایسی جنگ لڑتا ہے جیسے ملک کی آزادی کا آخری معرکہ اسی ایک شخص کی بیرک کے باہر فیصلہ ہونا ہو۔ تحریکِ انصاف کی سیاست کو دیکھ کر کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ایک سیاسی جماعت نہیں، بلکہ ایک ایسی سلطنت قائم ہے جس کا بادشاہ بھی ایک، تخت بھی ایک، منشور بھی ایک اور پوری سلطنت کا سب سے بڑا قومی مسئلہ بھی ایک ہی ہے: بادشاہ سلامت جیل سے کب باہر تشریف لائیں گے؟

عمران خان نے اپنی سیاسی زندگی میں چندہ جمع کرنے کو ایک نمایاں پہچان بنایا۔ شوکت خانم اسپتال کے لیے عوام نے دل کھول کر عطیات دیے اور اس منصوبے نے انہیں عوامی سطح پر غیرمعمولی اعتماد دلایا۔ مگر سیاست کا المیہ یہ ہے کہ جب چندہ جمع کرنے کی صلاحیت سیاسی عظمت کا پیمانہ بن جائے تو پھر ہر معاملے کو اسی عینک سے دیکھنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ناقدین کا سوال یہ ہے کہ جو رہنما عوام کے عطیات سے بڑے منصوبے کھڑے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، کیا وہ اپنی سیاسی جماعت کو بھی کسی مضبوط ادارے کی شکل دے سکتا ہے، یا پوری عمارت ایک ہی شخصیت کے گرد تعمیر ہوتی رہے گی؟

چندہ دینا اور چندہ لینا بذاتِ خود کوئی عیب نہیں۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عطیہ دینے والے کی نیت، رقم کے استعمال اور جواب دہی کے سوالات کو سیاسی وفاداری کی دھول میں چھپانے کی کوشش کی جائے۔ اسی طرح کسی سیاسی رہنما پر الزام لگانا آسان، مگر الزام کو ثبوت کے ساتھ ثابت کرنا ضروری ہے۔ تاہم، طنز کی گنجائش وہاں ضرور پیدا ہوتی ہے جہاں ایک جماعت اپنے قائد کو ہر سوال سے بالاتر اور باقی تمام دنیا کو جواب دہ سمجھنے لگے۔

تحریکِ انصاف کے عروج کے زمانے میں بڑے بڑے چوہدری، خان، وڈیرے، سردار اور سیاسی الیکٹیبلز اس جماعت کے قافلے........

© Daily Urdu (Blogs)