menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

China Ka Naya Behri Raasta

24 0
14.10.2026

چین کا نیا بحری راستہ

خلا میں جہاں چین اور یورپ مل کر سائنسی تحقیق کے نئے در کھول رہے ہیں، وہیں زمین پر بھی چین نے رابطوں کا ایک ایسا جال بچھانا شروع کر رکھا ہے جو برف پوش سمندروں سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا کی گرم بندرگاہوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ان دونوں منصوبوں کی کہانی دراصل تجارت اور کنیکٹیویٹی کے اس بڑے خواب کا حصہ ہے جسے چین "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو" کا نام دیتا ہے۔

نِنگ بو کسٹمز کے مطابق چین اور یورپ کے درمیان چلنے والے "آرکٹک کنٹینر ایکسپریس روٹ" نے رواں سیزن میں اپنی آٹھ کامیاب پروازیں مکمل کرنے کے بعد اپنے آپریشنز کا اختتام کیا، جس کے دوران 7760 ٹوئنٹی فٹ ایکویویلنٹ یونٹس کے برابر مال کی ترسیل کی گئی۔ یہ روٹ موسم گرما کے دوران باقاعدہ ہفتہ وار بنیادوں پر فعال رہا اور برطانیہ، جرمنی اور چیک ریپبلک سمیت بیس سے زائد ممالک اور خطوں تک رسائی فراہم کرتا رہا۔ اس روٹ کے ذریعے جو سامان بھیجا گیا اس میں زیادہ تر توانائی ذخیرہ کرنے کے آلات، پاور بیٹریاں اور نئی توانائی کی گاڑیاں شامل تھیں، جن کی مجموعی مالیت پانچ اعشاریہ تینتیس ارب یوان یعنی تقریباً سات سو پچانوے ملین امریکی ڈالر سے زائد رہی۔

یہ راستہ شمال مشرقی آرکٹک گزرگاہ سے ہوتا ہوا برطانیہ کی فیلکس اسٹو، ہالینڈ کی روٹرڈیم، جرمنی کی ہیمبرگ اور پولینڈ کی گڈنیا جیسی بڑی یورپی بندرگاہوں تک پہنچتا ہے اور چین و یورپ کے درمیان ایک تیز رفتار اور زیادہ مستحکم........

© Daily Urdu (Blogs)