Doctor, Clinic, Adviyat Aur Aeeni Adalat Ka Faisla
ڈاکٹر، کلینک، ادویات اور آئینی عدالت کا فیصلہ
رواں ہفتے چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل وفاقی آئینی عدالت کے بینچ نے 9 صفحات پر مشتمل اک تاریخ ساز فیصلہ جاری کیا۔ جس میں یہ طے پایا کہ ادویات کے متعلقہ مروجہ پاکستانی قوانین کے تابع پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر حضرات کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ڈرگ ایکٹ، 1976 کے برخلاف یعنی بغیر لائسنس ادویات کی تجارتی بنیادوں پر ذخیرہ اندوزی، خرید و فروخت کرسکیں۔ آئیے آئینی عدالت فیصلہ کے چیدہ نکات کا مطالعہ کرتے ہیں۔
معاملے کا پس منظر: یہ مقدمہ حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے دائر کردہ درخواست سے متعلق تھا۔ پشاور ہائی کورٹ نے ڈاکٹر محمد رضوان راجپوت اور دیگر کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ڈرگ انسپکٹرز کی جانب سے جاری کردہ نوٹسز اور ادویات کی ضبطی کے اقدام کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ متاثرہ ڈاکٹروں پر الزام تھا کہ وہ ادویات فروخت کے لائسنس حاصل کئے بغیر اپنے کلینک میں ادویات فروخت کرنے کے لئے رکھ رہے تھے۔ جس پر 21 جنوری 2020 کو متعلقہ ڈرگ انسپکٹرز نے جائزہ لینے کے بعد ادویات تحویل میں لیں اور نوٹس جاری کئے۔
کیس کے بنیادی قانونی نکات اور عدالت کا........
