menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

South Hall Ka Ameet Singh

13 0
latest

ساؤتھ ہال کا امیت سنگھ

پچھلے تیرہ برسوں میں لندن کا یہ میرا چھٹا دورہ ہے، مگر ہر بار خواہش کے باوجود میں کبھی ساؤتھ ہال نہیں جا سکا تھا، جو سکھوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور میرے لیے ہمیشہ ایک کشش کا باعث تھا کہ وہاں جا کر خود کو جالندھر کے ماحول میں محسوس کروں۔ اس بار میرے چھوٹے بھائی راشد نے مجھے ایک سفری کارڈ Oyester Card دیا جو لندن کے تمام چھ زونز میں چلتا تھا، چنانچہ میں نے ارادہ کر لیا کہ اس بار یہ خواہش ضرور پوری کروں گا۔

آج 29 مارچ کو عبدالرزاق اور میں Upminster سے روانہ ہوئے۔ مختلف ٹرینیں بدلتے ہوئے عبدالرزاق راستے میں اتر گیا کیونکہ اس نے ونڈر سر کے علاقے میں اپنے کزن کو ملنے جانا تھا جبکہ میں دوپہر کے وقت ساؤتھ ہال پہنچا تو یوں لگا جیسے کسی اور دنیا میں آگیا ہوں۔ یہاں ہزاروں سکھ اپنی مرکزی سڑک پر رواں دواں تھے اور ہر طرف ایک زندہ دل میلے کا سماں تھا۔ داہنی جانب گوردواثسرہ گرو سنگھ سبھا نظر آیا جس کے اندر زائرین کا ہجوم تھا۔ بارش کی ہلکی پھوار شروع تھی، لیکن سکھ مرد و زن گوردوارے سے نکل کر مرکزی سڑک پہ رواں دواں تھے۔

سکھ آبادی کا جو غیر معمولی ہجوم تھا، اس کی وجہ وہاں موجود خاتون سکھ گائیڈ سے پتہ چلی۔ یہ دراصل آنے والے بیساکھی کی تیاری تھی، جو سکھوں کا سب سے اہم مذہبی اور ثقافتی تہوار ہے۔ بیساکھی فصل کی کٹائی کی خوشی کے ساتھ ساتھ 1699 میں خالصہ کے قیام کی یاد میں بھی منائی جاتی ہے۔ اس سے پہلے گرودواروں میں عبادات، کیرتن اور عوامی سطح پر لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے، جہاں ہر آنے والے کو بلا امتیاز کھانا دیا جاتا ہے۔ یہی روایت آج سڑکوں پر نظر آئی۔

میں شاید موقع پہ تعینات برٹش پولیس کے علاوہ واحد غیر سکھ تھا جو یہاں موجود تھا، لیکن واہگورو کے چاہنے والے سکھ بھائیوں نے میرا بھر پور سواگت کیا اور تقریباً ہر سٹال پہ زبردستی کوئی نہ کوئی چیز کھانے کے لئے تھماتے چلے گئے۔ یہاں پہ لنگر میں متنوع الاقسام چیزیں تھیں جن میں چنے، دال، روٹی، ساگ، لسی، چائے، فروٹ چاٹ، دہی بھلے، فیرنی، دودھ، ڈرنکس حتیٰ کہ سردائی تک فیاضی سے بانٹی جا رہی تھی۔

ایک جانب خالصہ ایڈ تنظیم کا کیمپ تھا جس کے باہر زبردست سلوگن لکھا تھا جو واہگورو کا فرمان تھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ "انسانیت کی خاطر دنیا کی تمام ذاتوں کو ایک سمجھو"۔ مجھے وہاں کھڑے نوجوان امیت سنگھ نے مسکراتے ہوئے مجھے جوس کا ٹن پکڑا دیا۔ وقفے وقفے سے سکھوں کی مختلف تنظیموں کے کیمپ لگے تھے، جہاں کثیر تعداد میں لنگر بٹ رہا تھا۔ امیت سنگھ سے میں گپ شپ لگائی اور وہ بڑے جوش سے ہی میرے ساتھ چل پڑا۔ وہ ہر سٹال سے میرے لئے کوئی نہ کوئی پرساد پکڑ لیتا۔

امیت سنگھ نے ہسٹری بتاتے ہو ہے کہا کہ ساؤتھ ہال کو "لٹل پنجاب" اس لیے کہتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد، 1950 سے 1970 کی دہائی میں، پنجاب سے بڑی تعداد میں سکھ یہاں آئے۔ قریبی کارخانوں میں روزگار ملا اور پھر رشتہ دار بھی آتے گئے، یوں ایک مضبوط کمیونٹی بنی۔ وقت کے ساتھ یہاں بڑے گرودوارے جیسے گرودوارہ سری گرو سنگھ سبھا قائم ہوئے اور پنجابی ثقافت، زبان اور کھانے نے اس علاقے کو ایک منفرد شناخت دی۔ آج بھی یہ برطانیہ میں سکھ برادری کا سب سے نمایاں مرکز ہے، جہاں ان کی تعداد نمایاں ہے اور سیاسی اثر بھی مضبوط ہے۔ یہاں سے منتخب ہونے والے سکھ رہنما ویرندر شرما اس بات کی علامت ہیں کہ یہاں سکھ برادری نہ صرف آباد ہے بلکہ بااثر بھی ہے۔ ساؤتھ ہال کو اردو میں عموماً ساؤتھ ہال ہی لکھا جاتا ہے اور یہ مغربی لندن میں واقع ہے۔ یہاں زیرِ زمین ٹرین کی براہ راست سروس نہیں ہے کیونکہ تاریخی طور پر مرکزی ریلوے لائن پہلے سے موجود تھی، جو مرکزی لندن تک آسان رسائی فراہم کرتی ہے۔

سکھ برادری کو دیکھ کے ایک عجیب احساس ہوا پتہ نہیں یہ غلط تھا یا صحیح، مجھے سکھ مسکین اور پسماندہ نظر آئے، بالخصوص خواتین، کمزور اور پسی ہوئی لگیں۔ شائید جالندھر کے اس پار مغربی پنجاب میں ہمارے ہاں مردو و خواتین کھا کھا کے صحت مند و جاذب نظر ہو جاتے ہیں یا مٹی کا اثر ہے یا پھر ہو سکتا ہے میں خوش فریبی کا شکار ہوگیا ہوں۔ لیکن اس سب کے باوجود سکھ زندہ دل ہوتے ہیں اور مصائب جھیلنے میں ہم سے بہت آگے بھی۔ شائید ان کا توکل ہم سے بہتر ہے۔

امیت سنگھ سے "واہگورو کی جے ہووے" کہتے ہوئے میں نے اجازت چاہی کیونکہ میں نے ویمبلے پارک میں شام کے کھانے پہ کسی کے ہاں پہنچنا تھا اور ویسے ہی لیٹ ہو چکا تھا۔ امیت سنگھ نے جپھی مارتے ہوئے کہا، پہا جی فیر ضرور آنا۔ پتہ نہیں کبھی دوبارہ اسے مل پاؤں یا نہیں لیکن اس کی محبت مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔


© Daily Urdu (Blogs)