Meri Apni Kahani (4)
اکتیس دسمبر 1983 کی شام تھی اور شہر تھا لاہور۔ میں اور میرا بڑا بھائی اس تاریخی شہر میں موجود تھے۔ انجینئرنگ یونیورسٹی میں میرا داخلہ تقریباً ہو چکا تھا، اسی سلسلے میں بھائی مجھے اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ سورج دھیرے دھیرے افق کے پیچھے اتر رہا تھا اور سنہری روشنی لاہور کی قدیم عمارتوں پر بکھر رہی تھی۔ لاہور کو پہلی بار تفصیل سے دیکھتے ہی میں سحرزدہ ہوگیا۔ اتنی تاریخ، اتنی تہذیب، اتنی رونقیں اور اتنی ہیپننگز، میرے لیے سب کچھ کسی عجائب گھر کی طرح تھا۔
ہمارے میزبان حنیف شاہ تھے، جو ایم سی بی بینک میں ملازم اور میرے بھائی کے کولیگ تھے۔ ان کا گھر گھوڑے شاہ، باغبان پورہ کے علاقے میں تھا۔ انہوں نے ہمیں لاہور کی گلیوں اور یادگاروں سے روشناس کرایا۔ ہم تانگے پہ بادشاہی مسجد کی عظمت، شالامار باغ کی دلکشی، مینارِ پاکستان کی وقار بھری بلندی اور لکشمی چوک کی رنگین رونقوں سے ہوتے ہوئے مال روڈ تک جا پہنچے۔ شام کا سورج تو ڈوب رہا تھا، مگر میرے لیے امنگوں اور آرزوؤں کا ایک نیا سورج طلوع ہونے والا تھا، جو اگلے دن میری زندگی کے نئے باب کے ساتھ نمودار ہونا تھا۔
میں اور میرا دوست عزیز اسلم جب انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلے کے لیے پہنچے۔ ذہن میں شدید تذبذب تھا، کون سی ٹیکنالوجی اختیار کی جائے؟ ایک سول انجینئرنگ کے تیسرے سال کے طالب علم سے مشورہ کیا تو اس نے کہا کہ سول میں سیچوریشن ہو چکی ہے، نوکریاں کم ہیں۔ الیکٹریکل رکھ لیں۔ ایک الیکٹریکل کے فائنل ایئر کے طالب علم سے پوچھا تو اس نے الٹا مشورہ دیا کہ سول بہتر ہے۔ ہم دونوں مزید الجھن میں پڑ گئے۔
آخرکار فیصلہ ہوا کہ ٹاس کر لیا جائے۔ میں نے سکہ اچھالا، دو بار مسلسل "سول" آیا۔ میں نے فوراً فارم میں سول پر نشان لگا دیا۔ عزیز اسلم ہنسنے لگا: "یار! اگر الیکٹریکل آ جاتا تو؟" میں نے مسکرا کر جواب دیا: "سچ پوچھو تو میرا دل پہلے ہی سول کی طرف تھا، میں صرف ایک بہانہ ڈھونڈ رہا تھا"۔
یوں ہماری سلیکشن بھی تقدیر اور دل کی خاموش آواز کے بیچ طے پا گئی۔
10 جولائی 1984 یونیورسٹی کا پہلا دن تھا۔........
