menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Meri Apni Kahani (3)

44 6
22.02.2026

سرسید کالج میں طویل عرصے تک ہم اپنے آپ کو اجنبی سا محسوس کرتے رہے۔ ہمیں نہیں معلوم تھا ہمیں یونیفارم پہنا دیا جائے گا۔ لہذا سفید شلوار قمیض میں ملبوس ہو کر کالج لائف کی وہ مخصوص کیفیت کبھی پوری طرح محسوس نہ ہو سکی جس میں آزادی اور خود اعتمادی کا رنگ گھلا ہوتا ہے۔

ہم تقریباً بیک بینچر تھے، جبکہ کلاس کے بیشتر طلبہ ایلیٹ طبقے، انگریزی میڈیم اداروں اور فوجی افسران کے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ کبھی کبھار یوں محسوس ہوتا جیسے ہم کسی اور سیارے سے آ رہے ہوں اور مریخ کی کسی انجانی مخلوق کے درمیان کھڑے ہوں۔

ہمارے لیے اردو میڈیم پس منظر کے باعث انگریزی میں لکھی ہوئی کورس بکس بذات خود ایک چیلنج تھیں۔ جب کہ انگریزی کے خوش لباس، گھنیری زلفوں والے، شیکسپیئر سے مشابہ استاد، پروفیسر افتخار یوسف کا سامنا ایک الگ مسئلہ تھا۔ وہ اچانک سر پہ آن کھڑے ہو جاتے اور ثقیل انگریزی میں کوئی سوال پوچھ لیتے۔ کالج سے بہت سال بعد اسلام آباد میں ملے تو معلوم ہوا ان کا سسرال ادھر ہی ہے۔ اب کینیڈا مقیم ہیں اور وہ میرے کالج کے واحد استاد ہیں جن سے اب تک رابطہ برقرار ہے۔

مظفر اور میری سب سے بڑی تفریح یہ ہوتی کہ چھٹی کے بعد صدر جا کر کریم کے سموسے یا لوبیا چاٹ سے دل بہلا لیتے۔ کالج آنا اور جانا سب سے کٹھن مرحلہ تھا۔ سرکاری والوو بسوں میں چار آنے کرائے کے چکر میں دو ڈھائی گھنٹے کا سفر، کتابوں کا بوجھ اور اکثر کھڑے کھڑے منزل تک پہنچنا، یہ سب ہمارے روزمرہ کا حصہ تھا۔ تھکن جسم سے زیادہ دل پر اترتی تھی۔

چاندنی چوک کے بعد کا فیض آباد تک سفر نسبتاً پُرسکون ہوتا تھا۔ اردگرد زیادہ تر سرسبز کھیت ہوتے۔ اسی طرح فیض آباد سے زیرو پوائنٹ والی ڈبل روڈ بھی انتہائی دلکش ہوتی، دونوں اطراف سلوپ میں سبز لینڈ اسکیپ ہوتی، یہ سفر کافی طویل محسوس ہوتا، تاہم زیرو پوائنٹ پہنچنے پہ احساس ہوتا کہ ہم اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔

یہ جنرل محمد ضیاء الحق کا زمانہ........

© Daily Urdu (Blogs)