menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mehar

22 0
25.07.2026

قرآن مجید میں مہر کے لئے مختلف الفاظ استعمال ہو ئے ہیں مثلاً صدقہ، اجرٌ اور فریضہٌ البتہ حدیث شریف میں مہر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مہر وہ مال ہے جس کے معاوضہ میں مرد کو عورت پر حق زوجیت حاصل ہوتا ہے چنانچہ فقہا کا قول ہے (المہر بدل البضع) مہر بضع عورت کا عوض ہے چنانچہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ نکاح کے موقع پر حق مہر کا تعین لازمی ہے اور اس کے بغیر تعلقات زوجیت قائم کرنا درست نہیں۔

ذات باری تعالیٰ کا فرمان ہے: تم عورتوں کو اپنے مالوں کے عوض شہور رانی کے لئے نہیں بلکہ پارسائی کی خاطر طلب کرو۔ (النساء24)۔

فقہا کے نزدیک مہر مقرر کیا جائے یا نہ مقرر کیا جائے۔ نکاح دونوں صورتوں میں جائز ہوگا اور مہر کا تعین نہ ہونے کی صورت میں عورت مہر مثل کی حق دار ہوگی۔

مختلف فقہا کے نزدیک کم از کم مقدار مختلف ہے۔ امام ابوحنیفہ کے ہاں یہ دس درہم ہے البتہ شریعت اسلامی میں اس کی کوئی آخری حد مقرر نہیں کی گئی۔ مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے اپنے عہد خلافت میں اس کے لئے انتہائی حد مقرر کرنا چاہی مگر ایک عورت نے انہیں ٹوک کر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے کوئی حد مقرر نہیں کی اور ساتھ ہی ارشاد باری تعالیٰ کی ذکر کر دیا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: اگر تم اس بیوی کو ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔ (النساء 20)

احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مہر کی زیادتی میں مبالغہ کرنا اور مرد کی قوت برداشت سے زیادہ مہر مقرر کرنا ایک نا پسندیدہ فعل ہے جیساکہ فرمان نبوی ﷺہے: عورتوں کو مردوں کے پلے باندھنے کی کوشش کرو اور مہروں میں حد سے نہ بڑھو۔

حضرت عمرؓ کا قول ہے مہر مقرر کرنے میں حد سے نہ بڑھو۔ کیونکہ اگر دنیا میں یہ کوئی عزت اور آخرت میں تقویٰ کی بات ہوتی تو تم سے زیادہ رسول اللہ ﷺ اس کو اختیار........

© Daily Urdu (Blogs)