Infaq Fi Sabeelillah
انفاق فی سبیل اللہ (1)
انفاق فی سبیل اللہ کے معنی اللہ تعالیٰ کی رہ میں خرچ کرنے کے ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تمام معاملات جس میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا شامل ہے بے نیاز ہے اللہ تعالیٰ کو ہمارے صدقہ وخیرات کی کوئی ضرورت نہیں یہ سب کچھ ہمارے اپنے لئے ہی ہے جس طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور جو کچھ بھی مال تم خرچ کرتے ہو اپنے لئے ہی خرچ کرتے ہو (البقرہ 272)۔
اس لئے جب ہم انفاق فی سبیل اللہ کا لفظ بولتے ہیں اس سے مراد بھی یہی ہوتی ہے کہ اپنا مال اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستوں پر خرچ کیا جائے۔ خرچ خواہ اللہ تعالیٰ کی رہ میں کیا جائے یا شیطان کی راہ میں نذر خواہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہو یا غیر اللہ کے لئے دونوں صورتوں میں آدمی کی نیت اور اس کے فعل سے اللہ تعالیٰ بخوبی واقف۔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کیا ہوگا اور اس کی خاطر نذر مانی ہوگی وہ اس کا اجر پائیں گے اور جن ظالموں نے شیطانی راہوں میں خرچ کیا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کے لئے نذریں مانی ہوگیں ان کو خدا کی سزا سے بچانے کے لئے کوئی مدد گار نہیں ملے گا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہوگا اور جو نذر بھی مانی ہوگی اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں۔ (البقرہ 270)
بخل انسانی کے محرکات: انسان کو جو چیزیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے روکتیں ہیں وہ یہ ہیں 1۔ مال........
