menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Infaq Fi Sabeelillah (2)

24 0
sunday

انفاق فی سبیل اللہ (2)

خلوص قلب اور حسن نیت پہلا تقاضا یہ ہے مال کو صرف رضائے الٰہی اور نفس کی پختگی کے لئے خرچ کیا جائے۔ حضور اکرم ﷺ نور مجسم کا ارشاد مبارک ہے کہ اگر احد پہاڑ بھی میرے لئے سونے کا بن جائے تو میری خوشی اس میں ہوگی کہ میں ﷺ اسے خدا کی راہ میں خرچ کر دوں اور تین راتیں گزرنے سے بیشتر ایک درہم یا ایک دینار بھی اپنے پاس نہ رکھوں سوائے اس کے میرے ذمہ کوئی قرض ہو تو میں ﷺ اسے ادا کرنے کے لئے بچا لوں۔ اہل ایمان مال کے خرچ کو نہ باعث نقصان سمجھتے ہیں نہ موجب گرانی جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: جو لوگ اپنے مال محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور اپنے دل کے ثبات وقرار کی غرض سے خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو سطح مرتفع پر واقع ہو اگر زور کی بارش ہو جائے تو وہ دگناپھل لائے اور اگر بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوا رہی اس کے لئے کافی ہو جائے تم جو کچھ کرتے ہو سب اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہے (البقرہ 562)۔

2۔ دل آزاری کی ممانعت: حسن نیت کا دوسرا تقاضا یہ ہے کہ جس شخص کو راہ حق میں دیا جائے نہ اس پر احسان کیا جائے اور نہ ہی اس سے خدمت لے کر یا طعنہ دے کر اس کی خوداری کو ٹھیس پہنچائی جائے کیونکہ احسان جتا نا اور دل آزاری کرنا دونوں ایک فاسد کردار کی علامتیں ہیں کم ظرف لوگ اگر کسی شخص پر بھول کر خرچ کر بیٹھتے ہیں تو اس کے عوض ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ شخص زندگی بھر نہ صرف ان کا ممنون رہے بلکہ........

© Daily Urdu (Blogs)