Moscow Se Makka (23)
اگلے روز چونکہ میں نماز فجر کے بعد تھوڑی دیر کے لیے سو گیا تھا اس لیے ناشتہ کرنے دیر سے پہنچا تھا۔ ایک میز کے گرد بیٹھی چند خواتین ناشتہ تناول کر رہی تھیں۔ ان کے علاوہ بس میں ہی تھا جو ایک دوسری میز پہ ناشتے کی ٹرے رکھ کر پیٹ پوجا کرنے لگا تھا۔ ان خواتین میں ایک مولانا رشیت کی اہلیہ تھیں۔ رشیت حضرت تو عام قد و قامت کے آدمی تھےلیکن موصوفہ ان سے ایک بالشت بلند اور طباق کی طرح گول اور بڑے چہرے کی حامل خوش خلق خاتون تھیں۔ ماگومید کا کہنا تھا کہ "انا خودش کاک کارالیوا" یعنی وہ ایسے پھرتی ہے جیسے ملکہ ہو۔ میں نے ماگومید کو کہا تھا کہ ملکہ تو ہے ہی۔ اگر کمپنی سلوٹس ان 2400 افراد کی مد میں جو رشید حضرت نے روس کے مفتیوں کی کونسل کے شعبہ برائے حج و عمرہ کے سربراہ کی حیثیت سے انہیں تفویض کیے ہیں، صرف ایک سو ڈالر فی شخص بھی کمیشن دے تو دولاکھ چالیس ہزار ڈالر کمیشن بنتا ہے۔ جو سلوٹس کی سروسز کا حال تھا اس سے تو کمیشن دیے جانے اور کمیشن کھانے کا ہی گمان ہوتا تھا باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ مولانا کی بیگم میز سے اٹھ کر میرے پاس آئی تھیں اور کہا تھا، "آپ کو پتہ ہے کیا کہ ابھی ایک بس میں مکہ کے معروف مقامات کی سیر کے لیے لے جایا جائے گا"۔ مجھے خاک بھی معلوم نہیں تھا۔ میں نے شکریہ ادا کیا تھا........
