Moscow Se Makka (16)
میں نے ارد گرد دیکھ کر اندازہ لگانے کی کوشش کی تھی کہ میری منزل کس طرف ہو سکتی ہے اور پھر ایک جانب چلنا شروع کریا تھا۔ سڑکیں گاڑیوں سے پٹی پڑی تھیں اور فٹ پاتھوں پر لوگوں کا اژدہام تھا۔ ہوٹلوں میں رہنے کی استطاعت نہ رکھنے والے حج کرنے کے خواہاں لوگوں کو شہر مکہ میں جہاں بھی جگہ ملی تھی وہیں قیام کر لیا تھا۔ کوڑے کرکٹ اور غلاظت سے شہر میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ مغرب کی اذان ہو رہی تھی۔ جو پہلی مسجد دکھائی دی، اس کے وضو خانے میں گھس کر، جہاں ٹخنوں تک پانی کھڑا تھا، وضو کیا تھا اور وہ بوتل وہیں طاق میں رکھ دی تھی جس میں بائیس تئیس کنکر باقی بچ رہے تھے اور جو اب جمرات کی تین دیواروں اور کھائیوں کا مقدر نہیں رہے تھے۔ وضو کرکے مسجد کے باہر چبوترے پہ کھڑی صف میں کھڑا ہو کر جماعت کے ساتھ شامل ہوگیا تھا۔
نماز پڑھ کر پھر چل پڑا تھا۔ کچھ دور جا کر ہلال احمر کا دفتر دکھائی دیا تھا، جہاں طبی عملے کے لوگ باہر کھلی ہوا میں بیٹھے تھے۔ سوچا چلو سابق ڈاکٹر ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میری کلائی میں پلاسٹک کا وہ کڑا تھا جس پر منٰی کا کیمپ نمبر اور کچھ ٹیلیفون لکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے اگرچہ کسی کو زبان نہیں آتی تھی لیکن ایک نوجوان نے کوشش کی تھی کہ اپنے موبائل پر وہ فون نمبر ملائے جنہیں ملانے کی کوشش میں اپنے موبائل سے پہلے ہی کر چکا تھا۔ وہ فون نہیں ملا سکا تھا۔ اس اثناء میں تین پاکستانی نوجوان وہاں پہنچے تھے اور انہوں نے عربی میں انہیں لوگوں سے کچھ پوچھنے کی کوشش کی تھی۔
میں نے ان سے اپنے گم کردہ علاقے کا پتہ پوچھا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ مکہ کے رہنے والے........
