menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Moscow Se Makka (15)

22 8
21.01.2026

شام کو نور حبیب شاہ سے ملاقات ہوئی تھی۔ ہم اسی بازار میں اکل و شرب کے حصول کی خاطر گئے تھے۔ ایک برقعہ پوش لڑکی، "چکن اور چپس" کے ڈبّے ایک ٹرے میں رکھے چل پھر کر فروخت کررہی تھی۔ میں نے ڈبے پہ ہاتھ لگا کے دیکھا تو وہ ٹھنڈا تھا۔ میں بولا تھا نہیں، یہ تو ٹھنڈا ہے۔ جس پر لڑکی نے نقاب کے پیچھے سے بڑی مترنم اور شستہ اردو میں کہا تھا، "مکّہ سے لاتے لاتے یہاں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں"۔ میرے منہ سے حیرت سے نکلا تھا، "حبیب یہ اتنی اچھی اردو کیسے بول لیتی ہے؟" لڑکی نے سن لیا تھا اور مڑ کر کہا تھا، "پاکستان سے ہوں ناں، اس لیے"۔ حبیب نے لڑکی کے گزر جانے کے بعد کہا تھا، "ڈاکٹر یہ لڑکیاں یہاں کچھ اور بھی کرتی ہیں"۔ مجھے یہ سن کر بڑی کوفت ہوئی تھی اور میں نے حبیب کا منہ بند کرنے کے لیے کہا تھا، "کیسی بات کرتے ہو یار! اس ماحول میں اور اس موقع پر"۔ حبیب نے "بڑے سادہ ہو ڈاکٹر تم" کہہ کر ایک ہلکا سا قہقہہ لگا دیا تھا۔ حبیب کی معلومات زیادہ تھیں کیونکہ وہ پشتون ہونے کے ناطے غیر قانونی حج کرنے والے پٹھانوں سے معلومات لیتا رہتا تھا۔ اللہ ہم سب کو کسی پہ بہتان لگانے سے بچائے، آمین۔

حبیب میرے ہمراہ ہی میرے خیمے میں چلا آیا تھا۔ میرے ایک جانب قربان کا بستر تھا جبکہ دوسری جانب ایک باریش نوجوان عبداللہ کا بستر تھا۔ جو ہمارے گروپ والوں میں سے تو نہیں تھا، بس وارد ہوا تھا اور جم گیا تھا۔ اس کے گرد ہمارے گروپ کے چند نوجوان جمع ہو کر اس سے دین سے متعلق معلومات لیتے رہتے تھے۔ بقول اس کے وہ جامع الازہر........

© Daily Urdu (Blogs)