Falkiyat Ki Tareekh (18)
ہپارکس کے بعد تقریباً تین صدیوں تک یونانی فلکیات میں مختلف علماء کام کرتے رہے، لیکن ان میں سے کسی نے بھی ایسا جامع نظام پیش نہیں کیا جو تمام سابقہ تحقیقات کو ایک جگہ جمع کر سکے۔ پھر دوسری صدی عیسوی میں مصر کے شہر اسکندریہ میں ایک ایسا عالم سامنے آیا جس کی ایک کتاب نے آنے والے تقریباً چودہ سو سال تک فلکیات کی سمت متعین کر دی۔ اس کا نام کلاڈیئس بطلیموس (Claudius Ptolemy) تھا۔
بطلیموس نے تقریباً 150 عیسوی کے آس پاس اپنی مشہور کتاب المجسطی (Almagest) مکمل کی۔ اس کتاب کا اصل نام یونانی زبان میں کچھ اور تھا، لیکن بعد میں عرب علماء نے اس کا ترجمہ کیا اور اسے "المجسطی" کا نام دیا۔ یہی نام پوری دنیا میں مشہور ہوگیا۔ یہ کتاب کئی سو سال کی فلکیاتی تحقیق کا منظم خلاصہ تھی، جس میں ہپارکس سمیت متعدد یونانی علماء کے کام کو بھی شامل کیا........
