menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ilaqai Aur Aalmi Taqat Ki Harkiat

38 0
13.03.2026

علاقائی اور عالمی طاقت کی حرکیات

صدر ٹرمپ کے دوسری دفعہ برسراقتدار آنے کے بعد، میں نے چند تحریروں میں امریکی طاقت کی عالمی حرکیات کو زیر بحث لانے کی کوشش کی تھی۔ میں نے عرض کیا تھا کہ وسط انیسویں صدی کے بعد، مغربی/یورپی/امریکی استعمار کو دو حقیقی تحدیوں کا سامنا ہوا تھا۔ ان دونوں تحدیوں اور خطرات کی بنیاد سائنس اور ٹکنالوجی کی بنیاد پر ظاہر ہونے والی سیاسی قوت تھی۔ ان میں سے پہلا چیلنج میجی انقلاب کے بعد جاپان کی تیزتر معاشی ترقی اور عسکری قوت سے پیدا ہوا تھا۔

جاپان عالمی نظام معیشت و سیاست میں اپنی شرائط پر شراکت دار بننا چاہتا تھا جو مغربی استعمار کو قابل قبول نہیں تھا۔ بالآخر، دوسری جنگ عظیم تک جاپان کو زیر کر لیا گیا۔ دوسرا چیلنج بالشویک انقلاب کے بعد روس کی طرف سے سامنے آیا تھا جو دوسری جنگ عظیم کے بعد استحکام پذیر ہوگیا۔ مغرب کی علمی اور سیاسی روایت میں رومانوی سیاست پسندی اور ردِ سرمایہ داری کے دھارے انقلاب فرانس کے بعد سے موجود رہے تھے جو بالشویک انقلاب میں ظاہر ہوئے۔ مغرب کو اشتراکی چیلنج کا جواب دینے کے لیے بہت طویل جدوجہد کرنا پڑی۔

اس طوالت کی وجہ جرمنی میں ہٹلر اور نیشنل سوشلزم (فاشزم) کا ظہور تھا، جو بالآخر یورپ کے اندر ایک بڑی "خانہ جنگی" کا باعث بنا اور یورپ کی قوت فاشزم کا مقابلہ کرنے میں صرف ہوگئی۔ جنگ عظیم دوم کے بعد، امریکہ کی قیادت میں مغرب بالشویک سوشلزم کی طرف متوجہ ہوا اور ایک طویل جدوجہد کے بعد اس کو شکست دینے اور روس کی نکرکاری (marginlization) میں کامیاب ہوا۔ لیکن یک قطبی دنیا کے قیام اور اختتام تاریخ پر امریکہ اور یورپ کی فاتحانہ خوشی زیادہ دیر تک باقی نہ رہ سکی اور چین کا چیلنج ابھر آیا۔ صدر ٹرمپ اپنی آمد کے بعد سے اسی چیلنج کا سامنا اور اس کی تدبیر کر رہے ہیں۔

اس دفعہ امریکی اور یورپی استعمار کی پالیسی اس طریقے سے مختلف ہے جس سے جاپان اور روس........

© Daily Urdu (Blogs)