menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Karb e Aagahi Az Mohsin Khalid Mohsin: Samaji Tanazur

17 0
yesterday

"کربِ آگہی" از محسن خالد محسن: سماجی تناظر

محسن خالد محسنؔ کی نظم "کربِ آگہی" ایک ایسی داخلی اور سماجی کیفیت کی ترجمان ہے جس میں انسان اپنے وجود، اپنی کمزوریوں، اپنی اخلاقی شکست اور اپنے باطن کی تاریکی سے سامنا کرتا ہے۔ یہ نظم صرف ایک فرد کی ذاتی بے چینی نہیں بلکہ ہمارے پورے سماج کی ایک برہنہ تصویر بھی ہے۔ شاعر اپنے اندر کی نفرت، کمزوری، احساسِ جُرم اور خود احتسابی کو اس انداز میں بیان کرتا ہے کہ قاری محسوس کرتا ہے جیسے یہ صرف شاعر کی نہیں بلکہ ہم سب کی کہانی ہے۔

نظم کا آغاز ایک شدید داخلی اضطراب سے ہوتا ہے:

"میں اپنے اندر کی نفرت

لفظوں میں اُنڈیل دینا چاہتا ہوں"

یہاں شاعر اپنے اندر چھپی ہوئی نفرت کو چھپانا نہیں چاہتا بلکہ اسے الفاظ میں ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ عام طور پر انسان اپنی برائیوں کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے لیکن یہاں شاعر سچائی سے فرار نہیں چاہتا۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے اندر کی تلخی، اس کی کمزوری اور اس کی خرابی سب کے سامنے آ جائے۔ یہ ایک غیر معمولی اعتراف ہے۔ سماجی تناظر میں دیکھیں تو ہمارا معاشرہ دکھاوے، بناوٹ اور کھوکھلی صفات سے بھرا ہوا ہے۔ لوگ اپنے اصل چہرے کو چُھپا کر ایک مصنوعی شخصیت بنا لیتے ہیں۔ شاعر اس منافقت کے خلاف کھڑا نظر آتا ہے۔

"اور ہر صفحہ میری نحوست کا چہرہ اُٹھائے پھرے"

یہ مصرعہ بہت طاقتور ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ اس کی تحریر صرف خوبصورت لفظوں کا مجموعہ نہ ہو بلکہ اس کے باطن کی اصل تصویر بن جائے۔ یہاں "نحوست" سے مراد وہ اخلاقی زوال ہے جو انسان اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ یہ احساس صرف فرد کا نہیں بلکہ ایک ایسے سماج کا بھی ہے جہاں حسد، نفرت، خود غرضی اور اخلاقی گراوٹ عام ہو چکی ہے۔

آج کے معاشرے میں لوگ دوسروں کو گرانے، دھوکہ دینے اور اپنی خواہشات کے لیے ہر حد پار کرنے کو معمول سمجھتے ہیں۔ ایسے ماحول میں حسّاس انسان اپنے اندر اسی گندگی کا عکس دیکھنے لگتا ہے۔ شاعر اسی داخلی کشمکش کا اظہار کرتا ہے۔

"کہ پڑھنے والا لفظ نہیں

یہاں شاعر لفظوں سے زیادہ اپنے اخلاقی زوال کو نمایاں کرنا چاہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اصل مسئلہ خوبصورت زبان یا ادبی مہارت نہیں بلکہ انسان کا کردار ہے۔ اگر انسان اندر سے کھوکھلا ہو تو اس کے الفاظ بھی سچائی نہیں لا سکتے۔ یہی بات ہمارے معاشرے پر بھی صادق آتی ہے۔ ہم تقریروں، نعروں اور دعوؤں میں بہت مضبوط ہیں لیکن کردار اور عمل میں ہم بہت کمزور ہیں۔

"محاورے جلنے لگیں مقولے

میرے ارادوں کی سڑاند سے پھوٹ پھوٹ کر بہنے لگیں"

یہ ایک خوبصورت اور گہرا استعارہ ہے۔ محاورے اور مقولے زبان کی تہذیب اور دانائی کی علامت ہوتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کی نیت کی خرابی اتنی شدید ہے کہ زبان کی ساری خوبصورتی جلنے لگتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کے ارادے خراب ہوں تو اخلاق، ادب اور تہذیب سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔

سماجی طور پر یہ صورتحال بہت واضح ہے۔ ہم اخلاقیات کی بات کرتے ہیں مگر عمل میں انصاف نہیں کرتے۔ ہم محبت، بھائی چارے اور انسانیت کے نعرے لگاتے ہیں مگر دلوں میں نفرت رکھتے ہیں۔ شاعر اسی تضاد کو محسوس کرتا ہے۔

"میں اپنے اندر کی پوری کائنات

کاغذوں کے ایک ڈھیر میں رکھ کر اپنے ہونے سے

یہاں شاعر اپنی پوری داخلی دُنیا سے بھاگنا چاہتا ہے۔ انسان کبھی کبھی اپنے ہی وجود سے تھک جاتا ہے۔ جب اسے اپنی خامیاں بہت واضح نظر آنے لگتی ہیں تو وہ خود سے فرار چاہتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان خود سے بھاگ نہیں سکتا۔

اسی لیے شاعر فوراً کہتا ہے:

"مگر فرار بھی کہاں ممکن ہے

اپنا تعاقب کرتا رہتا ہے"

یہ نظم کا مرکزی خیال ہے۔ انسان باہر کی دُنیا سے تو بھاگ سکتا ہے لیکن اپنے ضمیر، اپنے شعور اور اپنی آگہی سے نہیں بچ سکتا۔ یہی آگہی اصل سزا ہے۔ جب انسان کو اپنی حقیقت کا علم ہو جائے تو وہ سکون سے نہیں رہ سکتا۔

سماجی سطح پر بھی یہی مسئلہ موجود ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں انسان باہر سے کامیاب اور خوش نظر آتا ہے مگر اندر سے شدید بے سکونی کا شکار ہوتا ہے۔ دولت، شہرت اور تعلقات ہونے کے باوجود انسان خود سے مطمئن نہیں ہوتا۔ وجہ یہ ہے کہ اندر کا خلا کسی ظاہری چیز سے نہیں بھرتا۔

"یہ آگہی بھی کیسی عجیب سزا ہے"

یہاں "آگہی" صرف علم نہیں بلکہ خود شناسی ہے۔ اپنے اندر کی برائیوں کو پہچان لینا ایک تکلیف دہ تجربہ ہے۔ بہت سے لوگ اسی لیے سوچنے سے بچتے ہیں کیونکہ سچائی آسان نہیں ہوتی۔ جو انسان حسّاس ہوتا ہے، وہ اپنے اعمال، ارادوں اور اخلاقی حالت کا زیادہ سختی سے جائزہ لیتا ہے۔

یہی آگہی بعض اوقات انسان کو خود اپنے خلاف کھڑا کر دیتی ہے:

خود کو مارنے کی ضد پر قائم رہے"

یہ خودکشی کا لفظی مفہوم نہیں بلکہ مسلسل خود ملامتی اور خود نفرتی کی کیفیت ہے۔ انسان زندہ ہوتا ہے مگر اندر سے خود کو سزا دیتا رہتا ہے۔ یہ نفسیاتی کیفیت آج کے نوجوانوں میں بہت عام ہے۔ مقابلے، ناکامی، معاشرتی دباؤ اور اخلاقی انتشار نے انسان کو اپنے ہی خلاف کر دیا ہے۔

محسن خالد محسن کی نثری نظموں کی خوبی یہ ہے کہ اس میں ہر طرح کے موضوع پر اظہار خیال کا عمدہ پیرایہ ملتا ہے۔ محسن کو میں ذاتی طور پر جانتی ہوں۔ اس نے سماج کی تلخیوں کو جس کرب ناک صورت میں دیکھا ہے وہ ایک عام شخص کے بس کی بات نہیں۔ شاعر حالات کی چکی سے پِس کر ہی شاعر بنتا ہے۔ ہر شخص تجربے سے گزرتا ہے لیکن شاعر اور عوام کے تجربے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ محسن کی نظموں میں یہ فرق واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔

نظم "کربِ آگہی" مذکورہ رائے کی عمدہ مثال ہے جس میں شاعر نے سماج کی تلخ حقیقتوں کو کمال بے باکی سے بیان کیا ہے۔

یہ نظم مایوسی پر ختم نہیں ہوتی۔ شاعر سماج کی پرتیں کھولتے ہوئے ایک اہم موڑ لیتا ہے:

اِتنا بھی معیوب نہیں"

یہاں اُمید کی ایک ہلکی روشنی نظر آتی ہے۔ شاعر تسلیم کرتا ہے کہ انسان ہونا بذاتِ خود کوئی جُرم نہیں۔ دُنیا میں اچھائی بھی موجود ہے، محبت بھی باقی ہے، روشنی بھی زندہ ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے کیونکہ مکمل مایوسی انسان کو تباہ کر دیتی ہے۔

"دُنیا میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں

روشنی بھی رہتی ہے محبت بھی بچی رہتی ہے"

یہ مصرعے اس نظم کا توازن قائم کرتے ہیں۔ شاعر صرف تاریکی نہیں دکھاتا بلکہ یہ بھی مانتا ہے کہ اُمید ابھی ختم نہیں ہوئی۔ سماجی سطح پر بھی اگرچہ نفرت، ظلم اور بے حِسی بہت بڑھ گئی ہے اس کے باوجود اچھے لوگ موجود ہیں جو محبت، سچائی اور انسانیت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

نظم کا آخری سوال سب سے زیادہ اثر رکھتا ہے:

اچھا کیوں نہیں لگتا؟"

یہ سوال دراصل پوری نظم کا نچوڑ ہے۔ انسان دنیا کو سمجھ لیتا ہے، دوسروں کو پہچان لیتا ہے لیکن خود سے مطمئن نہیں ہو پاتا۔ یہی اصل المیہ ہے۔ خود سے نفرت انسان کی سب سے بڑی تنہائی ہے۔

سماجی تناظر میں یہ سوال بہت اہم ہے کیونکہ آج کا انسان مسلسل موازنہ، احساسِ کمتری اور ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا، معاشرتی توقعات اور کامیابی کی مصنوعی تعریف نے انسان کو اپنے ہی وجود سے دور کر دیا ہے۔ وہ دوسروں کی نظر میں اچھا بننے کی کوشش کرتا ہے مگر اپنی نظر میں گِر جاتا ہے۔

محسن خالد محسنؔ کی یہ نظم جدید انسان کے باطن کی ایک سچی تصویر ہے۔ اس میں فرد کی نفسیاتی کشمکش بھی ہے اور سماج کی اخلاقی بیماریوں کا ذکر بھی۔ شاعر نے بہت سادہ مگر گہرے انداز میں یہ بتایا ہے کہ اصل جنگ باہر نہیں بلکہ انسان کے اندر ہوتی ہے۔

نظم "کربِ آگہی" دراصل شعور کا وہ کرب ہے جسے جان لینا آسان نہیں ہوتا۔ اپنے اندر کی تاریکی کو پہچاننا سب سے مشکل کام ہے۔ دراصل یہی پہچان اصلاح کی پہلی شرط ہے۔ جو انسان اپنی خرابی کو دیکھ لیتا ہے، وہ بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

یہ نظم ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، اپنی منافقت، اپنی کمزوری اور اپنی خاموش شکست کو پہچانیں۔ اس نظم کی سب سے بڑی سماجی اہمیت اعترافِ ذات ہے۔

مختصر یہ کہ یہ نظم صرف ایک شاعر کی خود کلامی نہیں بلکہ مشرقی سماج شفاف کا آئینہ ہے۔


© Daily Urdu (Blogs)