menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Artist

28 1
27.01.2026

اس کا کھلا منہ آسمان کی طرف ہے، شاید اپنی شہ رگ ٹٹولنے پر اسے اپنے اندر خدا نہیں ملا اسے لئے وہ آسمانوں کے پار بیٹھے خدا کو للکار کے اس سے اس کے موجود ہونے کی دلیل مانگ رہی ہے۔ اس کے ہاتھ اس کے بکھرے ہوئے لمبے بالوں کے بیچ پھنسے ہوئے ہیں۔ شاید وہ اپنے بال نوچ رہی ہے یا انہیں اکھاڑنا چاہتی ہے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ کس بات کا غصہ اپنے خوبصورت بالوں پر نکالنا چاہتی ہے۔

اس کا کھلا ہوا منہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مسلسل دھاڑ رہی، چیخ رہی ہے لیکن ہم میں سے کوئی بھی اس کی آواز نہیں سن سکتا۔ شاید کچھ چیخیں بے آواز ہوتی ہے۔ شاید تم نے اس کی چیخوں کو قید کیا ہوا ہے۔ اس کی آنکھیں نہیں ہے بلکہ آنکھوں کی جگہ دو گہرے تاریک گڑھے ہیں جیسے کسی مرنے والے کے انتظار میں کسی نے دو قبریں پہلے سے کھود دی ہوں یا کسی زمانے میں آسمان سے کچھ شہاب ثاقب ٹوٹ کے ان آنکھوں میں گرے ہیں۔

وہ اپنی چیخیں زمان و مکان کے ہر چیز کو سنانا چاہتی ہے، اس کا دل........

© Daily Urdu (Blogs)