Sasti Shohrat Aur Bikharti Nasal e Nao
سستی شہرت اور بکھرتی نسلِ نو
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی تہذیب مٹی ہے، تو اس کے پیچھے کسی بیرونی لشکر کا ہاتھ بعد میں اور اس کے اپنے اندرونی فکری و اخلاقی زوال کا ہنگامہ پہلے برپا ہوا ہے۔ آج ہم جس عہدِ ملوکیتِ جدید یعنی ٹیکنالوجی کے دور میں سانس لے رہے ہیں، اس نے بظاہر فاصلے تو سمیٹ دیے ہیں مگر انسانی اقدار، سنجیدگی اور فہم و ادراک کے وسیع سمندروں کو سکھا کر چند سیکنڈز کی ایک اسکرین میں قید کر دیا ہے۔
اس ڈیجیٹل یلغار کے بطن سے جنم لینے والا ایک فتنہ ٹک ٹاک کی صورت میں ہماری دہلیز پار کرکے اب ہماری خلوتوں پر بھی قابض ہو چکا ہے۔ یہ محض ایک تفریحی ایپلی کیشن نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا خاموش فکری نشہ ہے جس نے ہماری نوجوان نسل کے شعور کو اس بے دردی سے مفلوج کیا ہے کہ جہاں علم، کتاب، حیا اور تہذیب اب قصہِ پارینہ معلوم ہوتے ہیں اور زندگی کا کل حاصل محض لائیکس اور ویوز کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے۔ سستی شہرت کی اس اندھی ہوس نے ایک مائنڈ لیس (بے مغز) معاشرے کی بنیاد رکھ دی ہے، جہاں تماشہ بننے اور تماشہ........
