Haya Mar Gayi Jab Masoomiyat Ka Janaza Nikla
حیا مر گئی جب معصومیت کا جنازہ اٹھا
کچھ خبریں ایسی ہوتی ہیں جو صرف پڑھی نہیں جاتیں، بلکہ دل کے اندر نشتر بن کر اتر جاتی ہیں اور روح کو کرچی کرچی کر دیتی ہیں۔ اخبار کا صفحہ ہاتھ میں تھا اور لفظوں کی سیاہی جیسے اک ننھی معصوم کے سرخ خون میں ڈوبی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ ایک سال کی ائزل۔۔ ایک سال! خدایا!
یہ عمر تو ابھی ماں کا آنچل پکڑ کر پہلا قدم اٹھانے کی ہوتی ہے، یہ عمر تو ابھی تتلیوں کو دیکھ کر ہاتھ پھیلانے اور ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اپنی بات منوانے کی ہوتی ہے۔ وہ ننھی پری جس نے ابھی دنیا کا رنگ تک نہیں دیکھا تھا، جس کے ہاتھ اتنے چھوٹے تھے کہ باپ کی ایک انگلی بھی بمشکل تھام پاتی، اس کے ساتھ وہ ہوا جس کا تصور کرکے بھی انسان کا پتا پانی ہو جائے۔
اس کے پھول جیسے وجود کو جس بے رحمی سے روند دیا گیا، وہ صرف اس ایک سال کی بچی پر ظلم نہیں، بلکہ پورے انسانی وجود پر، کائنات کے حسن پر اور ہمارے سوتے ہوئے ربانی ضمیر پر ایک ایسا گہرا زخم ہے جس سے نکلتا ہوا خون شاید کبھی خشک نہ ہو سکے۔
ہم کس درندوں کے جنگل........
