Sharab Khor Khayal
بیدل ایک شاعر تھا، پورا نام مرزا عبدالقادر بیدل، اس نے ایک قطعہ کہا جو فکر و فن میں خوب ہے:
دشنام اگر دہد خسیسے چارہ نبود بجز شنیدن
گر پائے کسے سگ گزیدہ باسگ نتواں را عوض گزیدن
مفہوم یہ کہ کوئی خبیث گالیاں دے تو سننے کے سوا چارہ نہیں کیوں کہ اگر کسی کے پاؤں پہ کتا کاٹ لے تو بدلے میں کتے کو نہیں کاٹا جا سکتا۔
یہ نظریہ حقیقت کے قریب ہے، عملی زندگی میں ہمہ قسم کے لوگ ملتے ہیں، بسا اوقات تلخی بھی ہو جاتی ہے، ایسے میں صبر و استقامت کا دامن نہ چھوٹنا چاہیے، اگر کوئی برا کہے، جواب میں ہم بھی برا کہیں تو فرق کیا! اور اللہ تعالی کی مدد سے محرومی علاوہ ہوئی۔
مشاہدہ ہے کہ گالیاں وہی بکتے ہیں جو ذکرکے عادی نہیں ہوتے یا پابندی سے اللہ پاک کا نام نہیں لیتے، ذکر و شغل کا عادی ہرگز گالیاں نہ بکے گا بلکہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے اوقات فضول کاموں میں برباد نہیں کرتا۔
ایک بزرگ کا قول ہے........
