menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pegham e Pakistan, Ulema o Mashaikh Conference Aur Afwaj e Pakistan

28 0
16.07.2026

پیغامِ پاکستان، علماء و مشائخ کانفرنس اور افواجِ پاکستان

عصرِ حاضر میں قوم و وطن کا دفاع جس طرح جنگ کے میدانوں میں کیا جاتا ہے اسی طرح اس کی نظریاتی حدود کی حفاظت علم و ابلاغ کے میدانوں میں کرنا بھی ضروری ہے۔ معرکہء حق میں افواجِ پاکستان نے دشمن کے خلاف ایک طرف عسکری معرکے میں کامیابی حاصل کی، دوسری طرف ابلاغ اور بیانیے کی جنگ میں بھی اپنا موقف واضح کیا اور عالمی رائے عامہ کو ہمنوا بنایا جس سے عالمی سطح پر قوم کا وقار بلند ہوا۔ چند روزہ پاک بھارت جنگ کے دوران نوجوان نسل کو مطالعہء پاکستان اور تحفظِ آزادی کی جدوجہد کا خود مشاہدہ کرنے کا موقع بھی ملا۔

پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے جس کی بنیاد میں کلمہء طیبہ اور لاکھوں شہیدوں کا خون شامل ہے۔ عصرِ حاضر میں وطنِ عزیز کے دشمنوں نے ریاستِ پاکستان، قومی اداروں بشمول افواجِ پاکستان کے خلاف کئی محاذ کھول رکھے ہیں جن کے ذریعے سے مسلح دہشت گرد حملہ آور ہوکے سپاہیوں اور شہریوں کو یکساں طور پر نشانہ بناتے ہیں۔ بعض مقامات پر مساجد اور سکولوں پر خود کش حملے کیے جاتے ہیں۔ ان حالات میں ریاستِ پاکستان کی جانب سے علماء اور مشائخ کو اعتماد میں لینے کا اہتمام کیا گیا۔

علماء و مشائخ کانفرنس منعقدہ دسمبر 2025 سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے زور دیا کہ جنگ میں کامیابی کے لئے ملک کا معاشی طور پر مضبوط ہونا اور دہشت گردی سے محفوظ ہونا اشد ضروری ہے۔ ملکی ترقی اور استحکام کے لئے اتحاد و یک جہتی ناگزیر ہے، اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ انھوں نے پاک فوج کے جوانوں کی شان دار کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اس فوج کا دفاع کریں جس نے ہمارے دفاع کے لیے اپنے لہو سے تاریخ رقم کی!

چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ریاستِ طیبہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی مثال ایک نظریاتی ریاست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کا ماڈل عدل، علم، مساوات اور برداشت پر قائم تھا اور آج بھی یہ اصول کسی بھی قوم کی ترقی اور وقار کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ریاستِ طیبہ اور پاکستان کے درمیان ایک گہرا تاریخی تعلق موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلم ممالک میں سے "پاکستان" کو "محافظینِ حرمین" کا شرف عطا کیا ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے زور دیا کہ جس قوم نے علم اور قلم کو چھوڑا، وہاں انتشار اور فساد نے جگہ لی اور حقیقی عزت و طاقت تقسیم سے نہیں بلکہ محنت اور علم سے حاصل کی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ ہندوستان کا وطیرہ ہے اور ہم دشمن کو چھپ کر نہیں، بلکہ للکار کر شکست دیتے ہیں۔

چیف آف ڈیفنس سٹاف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کسی کو جہاد کے حکم دینے کا اختیار نہیں ہے۔ معرکہء حق میں اللہ کی نصرت سے کامیابی ملی۔ انہوں نے علماء سے اپیل کی کہ قوم کو متحد رکھیں اور عوام میں بصیرت اور وسعت پیدا کریں۔

قومی علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستانی قوم، ریاستی اداروں اور مذہبی قیادت کو ایک متفقہ پیغام دیا کہ "پاکستان ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا اور اسی نظریے کے ذریعے مضبوط بھی ہوگا۔ علم، کردار، محنت اور قومی وحدت وہ ستون ہیں جو ملکوں کو مضبوط کرتے ہیں اور یہی اصول پاکستان کی کامیابی کا ضامن ہیں"۔

دشمن نے دیکھ لیا کہ پاک افواج کو میدان میں ہرانا مشکل ہے تو دہشت گردی کی خفیہ کارروائیوں سے نقصان پہنچانے کے لئے پراکسی وار شروع کردی۔ ریاستِ پاکستان کو موجودہ دور میں "فتنہ الخوارج اور فتنہء ہندوستان" سے مسلسل لڑنا پڑتا ہے۔ اندرونی اور بیرونی ہر طرح کے خطرات سے وطنِ عزیز کو محفوظ کرنے کے لیے 2017ء میں تمام مکاتبِ فکرکے علمائے کرام نے "پیغامِ پاکستان" کے نام سے متفقہ فتویٰ جاری کیا تھا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ آئین کی رو سے پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اس کی افواج آئینِ پاکستان کی پابند ہیں، ان پر جن تنظیموں کی جانب سے شریعت کا نام لے کر بیرونی طاقتوں کے ایماء پر مسلح حملے کئے جاتے ہیں وہ جائز نہیں ہیں۔

قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہوگا اور اس کی لعنت اور اس کے لئے اللہ نے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے " (سورہء النساء: 93)۔

"پیغامِ پاکستان" کی متفقہ دستاویز کی تیاری میں "وفاق المدارس العربیہ، تنظیم المدارس اہلسنت، وفاق المدارس السلفیہ، وفاق المدارس الشیعیہ، رابطۃ المدارس پاکستان، دارالعلوم کراچی، دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف، جامعہ بنوریہ کراچی، جامعۃ المنتظر لاہور، جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک، جامعہ محمدیہ اسلام آباد اور جامعہ فریدیہ اسلام آباد کے اساتذہ کرام، جید علماء اور مفتی حضرات نے حصہ لیا تھا۔ " پیغام پاکستان کی دستاویز کے متن کا ایک اہم حصہ درج ذیل ہے:

National Narrative Against Terrorism: Paigham-e-Pakistan [Pakistan Message] دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ -پیغام پاکستان

متفقہ فتویٰ (جوابِ استفتاء)

بسم اللہ الر حمٰن الر حیم

الجواب حامداً و مصلّیاً۔

1– اسلامی جمہوریہ پاکستان یقیناً........

© Daily Urdu (Blogs)